نیویارک، 23 ستمبر (یو این آئی) انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا ہیکہ ان کا ملک غزہ میں امن دستے تعینات کرنے کیلئے تیار ہے کیونکہ انسانی بحران گہرا ہو رہا ہے اور نسل کشی جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم غزہ میں جاری ناقابل برداشت سانحہ کو ایک بوجھل دل کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ ہزاروں بے گناہ افراد مارے گئے ہیں جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں اور قحط اور تباہی ہوئی ہے ۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک انسانی آفت آ رہی ہے ۔ ہم بے گناہ شہریوں کے خلاف تشدد کی تمام کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ سوبیانتو نے کہا کہ انڈونیشیا تنازعہ کو روکنے کے لئے بین الاقوامی کوششوں میں حصہ لینے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے دو ریاستی حل کیلئے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم امن فوج فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے مندوبین کو بتایا کہ انڈونیشیا اعلان کرتا ہے کہ جب اسرائیل فلسطینی ریاست اور فلسطین کی آزادی کو تسلیم کرے گا وہ بھی فوری طور پر اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرے گا اور اسرائیل کی سلامتی کے لئے تمام ضمانتوں کی حمایت کرے گا پرابوو نے کہا کہ انڈونیشیا کا موقف واضح ہے ۔ انہوں نے مندوبین سے کہا کہ ہم فلسطین کے مسئلے کے دو ریاستی حل کیلئے پرعزم ہیں، انہوں نے بین الاقوامی کوششوں میں اتحاد پر زور دیا ۔یہ عہد اس وقت سامنے آیا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 80میں فلسطین کو تسلیم کرنے کی رفتار تیز ہوگئی۔ ایک دن پہلے برطانیہ نے آسٹریلیا اور کینیڈا کیساتھ مل کر فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ، جس کے اقدامات کو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے اتوار کو جاری ہونے والے ایک ویڈیو بیان میں اس فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ حماس کیلئے انعام نہیں ہے ،” انہوں نے اصرار کیا کہ دو ریاستی حل کے احیاء کیلئے تسلیم کرنا ایک ضروری قدم ہے ۔ فرانس ، بیلجیم ، مالٹا اور لکسمبرگ سمیت دیگر یورپی ممالک نے بھی حالیہ دنوں میں اس کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے ، جو اسرائیل کے دہائیوں پر محیط قبضے کو ختم کرنے کے لئے وسیع تر دباؤ کے ایک حصے کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے ۔