انڈیا اتحاد کی ووٹنگ فیصد پر تشویش آج الیکشن کمیشن سے ملاقات

   

نئی دہلی: ملک میںجاری لوک سبھا انتخابات میں ووٹنگ کے ہر مرحلے کے بعد ووٹ فیصد کے مکمل اعداد و شمار فوری طور پر جاری کرنے کے اپنے مطالبہ پر اپوزیشن انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کے جمعہ کے روز الیکشن کمیشن سے ملاقات کرنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی مہم میں بی جے پی کی طرف سے مذہبی علامتوں کے استعمال کا مسئلہ بھی اٹھائیں گے۔کانگریس اور ٹی ایم سی سمیت انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیوں نے الیکشن کمیشن کو الگ الگ خط لکھے ہیں جن میں دو مراحل کی ووٹنگ کے اعداد و شمار جاری کرنے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے منگل کو الیکشن کمیشن کے ذریعہ جاری کردہ ووٹنگ کے اعداد و شمار میں تضاد کے معاملے پر مختلف اپوزیشن قائدین کو مکتوب لکھا۔
اپنے خط میں، کھرگے نے انڈیا اتحاد کے لیڈروں پر زور دیا کہ وہ اجتماعی اور یکجہتی کے ساتھ اس مسئلہ پر واضح طور پر اپنی آواز بلند کریں۔الیکشن کمیشن نے 30 اپریل کو لوک سبھا انتخابات کے پہلے دو مرحلوں کے لیے ووٹنگ کا ڈیٹا باضابطہ طور پر شیئر کیا۔ کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلے میں 66.14 فیصد اور دوسرے مرحلے میں 66.71 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔منگل کو ہونے والی تیسرے مرحلے کی ووٹنگ کیلئے چہارشنبہ کی رات 10 بجے تک الیکشن کمیشن کے اپ ڈیٹ کردہ اعداد و شمار کے مطابق 65.68 فیصد ووٹنگ ہوئی۔الیکشن کمیشن کی طرف سے پیر کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں ووٹنگ فیصد کے اعداد و شمار کے ساتھ ہر سیٹ پر ووٹرز کی کل تعداد بھی شامل ہے۔ مختلف اپوزیشن جماعتوں نے بھی انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے دیگر رہنماؤں کی تقاریر کے حوالے سے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔