لاہور۔پاکستان کے سابق وکٹ کیپر راشد لطیف نے د ورہ انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم سے توقعات وابستہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم انگلینڈ کے خلاف کوشش کرنے پر جیت درج کرسکتی ہے ۔یو ٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کی بیٹنگ میں وہ طاقت نہیں ہے جو کہ ہونی چاہئے ، ڈومینیک سبلی نے صرف چار، پانچ ٹسٹ کھیلے ہیں۔اولی پوپ،جو ڈینلی اور روری برنز بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں تاہم ان چاروں کھلاڑیوں کو اچھی کارکردگی دکھانے کیلئے جو روٹ کی رہنمائی درکار ہوگی جبکہ بین اسٹوکس اور جوز بٹلر پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کو بیٹنگ لائن کے علاوہ اسپن کے شعبے میں بھی بعض مسائل کا سامنا ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ معین علی کو موقع دیا جائے ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان ٹسٹ سیریز میں میزبان ٹیم کیلئے سخت چیلنج ثابت ہوگا۔دوسری جانب پاکستان کی برطانوی سرزمین پرکارکردگی خراب نہیں رہی ہے ۔2016 اور2018 کی سیریز میں پاکستان نے شاندار کھیل پیش کیا اگر وہ میچ جیت نہ سکے تو ڈرا ضرور کئے ۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2009، چمپئنز ٹرافی2017 بھی انگلینڈ میں جیتی تھی لہٰذا کھلاڑی یہاں کے حالات ، موسم ، وکٹوں ، گراؤنڈ ز اور دیگر چیزوں سے ہم آہنگی رکھتے ہیں، بیٹنگ لائن بھی تجربہ کار ہے جبکہ بولنگ بھی اچھی ہے ۔ویسٹ انڈیز کے خلاف انگلینڈ کی پہلی ٹسٹ میں شکست نے پاکستانی ٹیم کے حوصلے بلند کردئے ہیں کیونکہ ویسٹ انڈیز کے بعد پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹسٹ مقابلوں کی سیریز ہونے والی جس کے لئے پاکستانی ٹیم انگلینڈمیں موجود ہے۔