حریت کانفرنس کے قائدین مدعو تاہم نریندر مودی حکومت نے انہیں شرکت کی اجازت نہیں دی
اسلام آباد۔ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کونسل کا دو روزہ اہم اجلاس منگل 22 مارچ کو اسلام آباد میں شروع ہوگیا۔ اس اجلاس میں مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز اور ابھرتے ہوئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مسلم ممالک کی 57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کا 48 واں سالانہ اجلاس اسلام آباد میں ایسے موقع پر ہورہا ہے جب پاکستان میں سیاسی اتھل پتھل جاری ہے اور وزیر اعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے۔ اجلاس میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی بطور مہمان خصوصی شریک ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی چینی وزیر خارجہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کررہا ہے۔ کشمیر کی حریت کانفرنس کے قائد کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن نریندر مودی حکومت نے انہیں اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی۔ نئی دہلی نے او آئی سی کے رویہ پر شدید نکتہ چینی بھی کی۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹوئٹ کرکے اجلاس کے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد، انصاف اور ترقی کے مرکزی موضوع کے تحت او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل میں وسیع پیمانے پر بات چیت ہوگی۔ اس اجلاس میں او آئی سی کی سربراہی ایک سال کے لیے پاکستان کو منتقل ہو جائے گی۔ اس اجلاس میں 2020 میں نائیجر کے دارالحکومت نیامی میں منعقدہ آخری اجلاس کے بعد سے مسلم دنیا کو متاثر کرنے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورت حال کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ اجلاس میں افغانستان اور فلسطین کے حالات، افریقہ اور یورپ کے مسلمانوں سے متعلق مسائل اور یمن، لیبیا، سوڈان، صومالیہ اور شام میں ہونے والی پیش رفت پر بھی غور کیا جائے گا۔ اسلام فوبیا اور بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق مسائل اور اقتصادی، ثقافتی، سماجی، انسانی اور سائنسی شعبوں میں تعاون بھی او آئی سی کے اس اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق امن اور سلامتی سمیت وسیع تر مسائل پر 100 سے زائد قراردادوں پر غور اور منظور کیا جائے گا۔ اس میں کہا گیا کہ پاکستان او آئی سی کا پرجوش حامی رہا ہے۔ پاکستان نے اتحاد اور یکجہتی کے بندھن کو مضبوط کرنے، بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے احترام کو برقرار رکھنے اور اقتصادی، سائنسی اور ثقافتی شراکت داری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔