کرناٹک کے وزیراقلیتی بہبودواوقاف بی زیڈ ضمیر احمد خاں کی جناب زاہد علی خان سے ملاقات
حیدرآباد۔ 21 نومبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار یقینی ہے اور جہاں تک تلنگانہ کا سوال ہے اس ریاست میں کانگریس کا اقتدار ہوگا تو پھر مرکز میں بھی کانگریس کی حکومت ہوگی۔ ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا۔ کانگریس ہی ہندوستان میں امن و امان اور سکون کو یقینی بناسکتی ہے۔ کانگریس میں ہی اس بات کا دم خم ہے کہ وہی تمام ہندوستانیوں کو بلالحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل، ذات پات ایک ساتھ لے کر چلتی ہے جبکہ بی جے پی اور مودی مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرکے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار کرناٹک کے وزیر اقلیتی بہبود و اوقاف، امکنہ جناب بی زیڈ ضمیر احمد خان نے روزنامہ سیاست، سیاست ٹی وی اور سیاست ڈاٹ کام کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ وہ تلنگانہ کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ جناب ضمیر احمد خان نے جو 2004 سے چمراج پیٹ حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوتے آئے ہیں چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کیا کہ 2014 اور 2018 کے انتخابات میں مسلمانوں کی تائید و حمایت کے باعث ہی ٹی آر ایس کو جو فی الوقت بی آر ایس میں تبدیل ہوگئی ہے کامیابی ملی لیکن افسوس کے کے سی آر نے مسلمانوں سے جو بھی وعدے کئے انہیں وفا نہ کیا۔ کے سی آر نے 2014 کی انتخابی مہم میں برسر عام اعلان کیا تھا کہ تشکیل حکومت کے اندرون چار ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات (سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی شعبہ میں) فراہم کئے جائیں گے لیکن انہوں نے مسلمانوں سے کئے گئے اپنے وعدہ کو فراموش کردیا۔ بی زیڈ ضمیر احمد خان کے مطابق اگر کسی درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں تو وہ دوبارہ آسکتے ہیں، شاخیں کاٹی جاتی ہیں، پھل توڑے جاتے ہیں تو وہ دوبارہ آجاتے ہیں لیکن کسی درخت کی جڑیں کاٹ دی جائیں تو وہ دوبارہ اُگ نہیں سکتا۔ ایسے ہی کے سی آر مسلمانوں سے جھوٹی ہمدردی کے ذریعہ ان کی تہذیب و تمدن ان کی اہمیت ان کی سیاسی نمائندگی ان کے تاریخی آثار کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ ریاست کے مسلمانوں کو کے سی آر کے ناپاک عزائم کو سمجھ لینا چاہئے۔ ویسے بھی کے سی آر کی بی آر ایس بی جے پی کی بی ٹیم ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اس لئے کہ مودی حکومت نے جتنے بھی مسلم دشمن بلز پیش کئے کے سی آر اور ان کی پارٹی نے ان بلز کی راست یا بالواسطہ ان کی تائید کی۔ ایک سوال کے جواب میں جناب ضمیر احمد خان کا کہنا تھا کہ سارے ملک میں سب سے زیادہ اوقافی جائیدادیں ریاست تلنگانہ میں ہیں۔ زائد از 77 ہزار ایکڑ موقوفہ اراضی اور 35 ہزار موقوفہ ادارے ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ 70 فیصد موقوفہ جائیدادوں پر ناجائز قبضہ کرلئے گئے۔ اس طرح کے سی آر حکومت لاکھوں کروڑوں روپے مالیتی اوقافی جائیدادوں کو بچانے میں جان بوجھ کر ناکام ہوئی ہے۔ اس کے برعکس کرناٹک میں کانگریس حکومت نے نہ صرف فرقہ پرستوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا بلکہ مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی ترقی کو یقینی بنایا، خاص طور پر کرناٹک میں حکومت بننے کے اندرون 6 ماہ اقلیتی بجٹ 2200 کروڑ روپے مختص کیا جبکہ تلنگانہ میں 2200 بجٹ میں سے اکثر بجٹ واپس چلا جاتا ہے۔ کرناٹک میں کانگریس حکومت نے اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کیا۔ ریاست میں 37 ہزار ایکڑ اراضی میں سے جن اراضیات پر قبضے ہوئے کانگریس حکومت نے 2013-18 کے دوران چار ہزار ایکڑ اراضی واپس حاصل کی۔ حال ہی میں 900 ایکڑ اراضی کو اپنے قبضے میں لیا (صرف 5 ماہ میں) اب صرف 2000 ایکڑ اوقافی اراضیات پر قبضے ہیں اسے ہم ضرور واپس لیں گے۔ ضمیر احمد نے مسلمانوں کو کے سی آر کی جھوٹی ہمدردی سے چوکس رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ بی آر ایس کا ایک بھی رکن لوک سبھا مسلمان نہیں۔ ایک بھی رکن راجیہ سبھا مسلم نہیں۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں ایک بھی مسلم نمائندہ نہیں۔ ریاست کی دس یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس میں سے ایک بھی مسلم نہیں۔ ووٹ ڈالتے وقت ان تمام ناانصافیوں کو یاد رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے مسلم رائے دہندوں سے پرزور انداز میں کہا کہ کانگریس ان سے انصاف کرے گی اور تمام مذاہب و طبقات کے ماننے والوں کو ایک ساتھ لے کر چلے گی۔