ہائی کورٹ میں مفاد عامہ درخواستوںکی سماعت، غیر مجاز قبضوںکی برخواستگی کی ہدایت
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے مسئلہ پر دائر کی گئی مفاد عامہ کی درخواستوں کی سماعت کی ہے۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے مفاد عامہ کی تین درخواستوں کی سماعت کی جس میں غیر مجاز قابضین کے خلاف وقف بورڈ کی جانب سے کارروائی نہ کرنے کی شکایت کی گئی ۔ ہائی کورٹ نے وقف اراضیات کے قابضین سے حاصل کرنے کے معاملہ میں وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔ وقف بورڈ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ جائیدادوں کو قابضین کے قبضہ سے حاصل کرنے کے لئے ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی ۔ سرکاری وکیل نے فنڈس کی کمی کی شکایت کی۔ عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کو تیقن دینے کے تین ماہ گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ وقف بورڈ کے بجائے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے عدالت میں جوابی حلفنامہ داخل کیا گیا جس میں ٹاسک فورس کی تشکیل کی بات کہی گئی ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 2186 ایویکشن آرڈر جاری کئے گئے ہیں تاکہ غیر مجاز قابضین سے وقف اراضی حاصل کی جاسکے ۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ تاحال کتنی جائیدادیں حاصل کی گئیں اور قابضین نے ٹریبونل اور دیگر اداروں سے کوئی حکم التواء تو حاصل نہیں کیا ۔ اس سوال پر سرکاری وکیل تفصیلات فراہم کرنے سے قاصر رہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ایکشن پلان نہیں بلکہ ایکشن چاہتی ہے۔ وقف بورڈ اور ریاستی حکومت کو ناجائز قبضوں کی برخواستگی کے بارے میں حقیقی صورتحال پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ اندرون دو ہفتہ گزشتہ تین ماہ کے دوران کی گئی کارروائیوں کے بارے میں ضلع واری سطح پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ۔