٭ تلسنکرات کے بعد مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ
٭ لاک ڈاون یا نائیٹ کرفیو سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا نہیں جاسکتا
٭ حکومت صورتحال سے نمٹنے مکمل تیار۔ عوام بھی احتیاط برتیں
٭ ہر ایک کے جینوم معائنہ ممکن نہیں۔ ڈائرکٹر ہیلت جی سرینواس راؤ
حیدرآباد۔6جنوری(سیاست نیوز) کورونا کی نئی قسم عوام کے درمیان پہنچ چکی ہے اور ائیر پورٹ پر 400 یا 500 مسافرین کے معائنہ سے اومی کرون کو پھیلنے سے روکا نہیں جاسکتا اور نہ محکمہ صحت کی جانب سے تمام کورونا مریضوں کی جینوم کی جانچ ممکن ہے۔ تلنگانہ میں تمام ڈاکٹرس اور طبی عملہ کی رخصت کو منسوخ کردیا گیا اور تاحکم ثانی انہیں چھٹی نہیں ملے گی۔ڈائرکٹر صحت ڈاکٹر جی سرینواس راؤ نے آج پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ تلنگا نہ میں تلسنکرانت کے بعد کورونا مریضوںکی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ کا اندیشہ ہے اور کورونا کی تیسری لہر ما ہ جنوری کے آخری ہفتہ میں عروج پر ہوگی جبکہ فروری کے دوسرے ہفتہ سے مریضوں کی تعداد میں کمی کا امکان ہے۔ ڈاکٹر سرینواس راؤ نے بتایا کہ تیسری لہر سے نمٹنے اقدامات تیز کئے جاچکے ہیں ۔ انہو ںنے دعویٰ کیا کہ گذشتہ دو لہروں کے دوران بھی محکمہ صحت نے کوئی کوتاہی نہیں کی اور نہ ہی عوام میں خوف پیدا ہونے دیا گیا اسی طرح تیسری لہر کے دوران بھی مریضوں کیلئے بہتر علاج و عوام میں شعور بیدار کرنے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوںنے خانگی و کارپوریٹ دواخانوں کے انتظامیہ کو راست انتباہ دیا اور کہا کہ گذشتہ دو لہروں میں محکمہ صحت نے کارپوریٹ اور خانگی دواخانوں کے انتظامیہ کی کوتاہیوں پر متعدد احکامات جاری کرکے انتباہ دیا ہے اور اس مرتبہ کوئی انتباہ نہیں دیا جائے گا بلکہ کارروائی کی جائیگی۔ انہو ںنے خانگی دواخانوں کے ذمہ دارو ںکو مشورہ دیا کہ وہ کورونا کے ہر مریض کو شریک دواخانہ نہ کریں بلکہ صرف ان کو شریک کیا جائے جن کے Spo2 کی سطح 93 سے کم ہو۔ سرینواس راؤ نے بتایا کہ مریضوں کو بھی کورونا کی توثیق پر دواخانہ میں شریک ہونے کے بجائے گھریلو قرنطینہ اور گھر میں علاج پر توجہ دینی چاہئے ۔ ڈائرکٹر محکمہ صحت نے بتایا کہ سرکاری دواخانوں میں سہولتوں کو بہتر بنانے اور زیادہ سے زیادہ مریضوں سے نمٹنے اور علاج کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ میں آئندہ 4ہفتوں کیلئے ایک کروڑ ریاپڈ اینٹی جین معائنوں کے کٹسحاصل کئے جارہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں کورونا مریضوں میں اضافہ کو تحدیدات‘ لاک ڈاؤن یا رات کے کرفیوسے نہیں روکا جاسکتا اور حکومت کو اس واقف بھی کروایا جاچکا ہے۔ ڈاکٹرس سرینواس راؤ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ N95 ماسک کے استعمال کے ذریعہ کورونا کوپھیلنے سے روکنے میں مدد کریں اور خود کو شکار ہونے سے بچائیں۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست میں محض 2.3 سرکاری وخانگی دواخانوں کے بستروں پر مریض ہیں اسی لئے کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔تلنگانہ میں فیور سروے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ 6 جنوری سے فیور سروے کا تمام دواخانوں میں آغاز کیا جاچکا ہے۔انہو ںنے بتایا کہ کورونا مریضوں میں اب دونوں اقسام ڈیلٹا اور اومی کرون کے مریض ہیں اسی لئے تمام متاثرین کے جینوم کی ترتیب کی جانچ نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے شہریوں کو خانگی طور پر گھریلو معائنہ کٹس کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ علامات کی صورت میں گھریلو کٹس سے جانچ کرلینی چاہئے تاکہ فوری قرنطینہ اور علاج کا آغاز کیا جاسکے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں اور قائدین سے اپیل کی کہ وہ عوامی اجتماعات اور اجلاس کے علاوہ دیگر سرگرمیوں کو منسوخ کرتے ہوئے عوام کو کورونا وائر س سے محفوظ رہنے رہنمایانہ خطوط پر عمل کروانے کی کوشش کریں۔م