کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں اومی کرون کی نشاندہی
حیدرآباد۔31 ڈسمبر(سیاست نیوز) ملک بھر میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون اب ڈیلٹا کی متبادل ثابت ہونے لگی ہے اور اب جو کورونا وائرس کے مریضوں کی نشاندہی ہوگی وہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے متاثرین ہی تصور کئے جانے کا امکان ہے! محکمہ صحت کے عہدیداروں کی جانب سے اومی کرون کے سماجی پھیلاؤ کی توثیق کے ساتھ ہی اب ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ جلد ہی ملک بھر میں موجود کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا کے متاثرین سے اومی کرون کے متاثرین کی تعداد تجاوز کرجائے گی۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ اب ملک کی کئی ریاستو ںمیں اومی کرون ڈیلٹا پر فوقیت حاصل کرنے لگا ہے اور جو مریض پائے جا رہے ہیں ان کے جینوم کی جانچ کا عمل جلد ہی بند کردیا جائے گا کیونکہ اومی کرون کے سماجی پھیلاؤ کے بعد اس بات کی توثیق ہونے لگی ہے کہ ڈیلٹا کے مریضوں سے زیادہ اومی کرون کے مریض پائے جا رہے ہیں۔ فی الحال ملک کی بیشتر ریاستوں میں اومی کرون کی نشاندہی کے لئے کورونا وائرس سے متاثر پائے جانے والوں کی جانچ کی جا رہی ہے اور اس جانچ کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی یہ توثیق ہورہی ہے کہ مریض اومی کرون سے متاثر ہے یا ڈیلٹا ویرینٹ کا شکار ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص مغربی ممالک میں ڈیلٹا کے متاثرین کی تعداد میں کمی اور اومی کرون کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے بعد آج ہندستانی ماہرین نے بھی یہ کہناشروع کردیا ہے کہ جلد ہی ہندستان میں اومی کرون کے متاثرین کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوگا۔ دنیا کے دیگر ممالک میں ڈیلٹا کے مریضوں کے ساتھ ساتھ اومی کرون کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے ایک نئی اصطلاح ’’ڈیل میکرن ‘‘ کا استعمال کیا جارہا تھا لیکن عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے اس اصطلاح کو غلط قرار دیتے ہوئے کورونا وائرس کی دونوں اقسام کے لئے علحدہ علحدہ نامو ںکے استعمال کی تاکید کے بعد ڈیلٹا اور اومی کرون کے مریضوں کی علحدہ نشاندہی کی جانے لگی تھی لیکن اب جبکہ اومی کرون کے متاثرین کی تعداد ڈیلٹا کے متاثرین سے تجاوز کرنے لگی ہے تواب یہ کہا جارہا ہے کہ اومی کرون کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے بعد ڈیلٹا ابتدائی کوروناوائرس کی اقسام الفا‘ بیٹا ‘ گاما کی طرح غائب ہوجائیں گی اور ہندستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے اومی کرون کے مریض غالب رہیں گے جن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔م