اومی کرون وائرس سے اولیائے طلبہ و سرپرستوں میں تشویش

   

وزیر تعلیم کی وضاحت کے بعد طلبہ کی کثیر تعداد وائرس سے متاثر
حیدرآباد۔9۔ڈسمبر(سیاست نیوز) دنیا بھر میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون نے اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تشویش میں دوبارہ اضافہ کردیا ہے اور وہ اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے بجائے آن لائن کلاسس کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ 2020 مارچ کے بعد سے طویل مدت کے بعد اسکولوں کی کشادگی کے بعد کئی ماہ کی جدوجہد اور اولیائے طلبہ و سرپرستوں میں پائے جانے والے خوف کو دور کرنے میں اسکول انتظامیہ کو کامیابی حاصل ہورہی تھی لیکن اب اومی کرون کے خوف نے دوبارہ انہیں تشویش میں مبتلاء کردیا ہے۔ ریاستی وزیر تعلیم مسز سبیتا اندرا ریڈی اور محکمہ تعلیم کے عہدیدارو ںکی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اسکولوں کو بند کرنے کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں لیا جائے گا بلکہ حسب معمول سلسلہ تعلیم جاری رہے گا لیکن ان کے اعلانات اور تیقنات کے باوجود رہائشی اسکولوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی توثیق نے اولیائے طلبہ و سرپرستوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ اسکولوں میں جہاں طلبہ کی حاضری کا فیصد 80 سے تجاوز کرچکا تھا ان اسکولو ںمیں اب دوبارہ 50 فیصد سے زیادہ طلبہ اسکول آنے کے بجائے انہیں آن لائن کلاس کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں موجود سرکاری و خانگی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کے اولیائے طلبہ وسرپرستوں کی جانب سے کہا جا رہاہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی نئی قسم کی دہشت کے سبب وہ اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اسکولوں میں بڑی تعداد میں بچے موجود ہوتے ہیں اور ان کے درمیان بچوں کی قوت مدافعت اگر کمزور پڑجاتی ہے توایسی صورت میں بچوں کے متاثر ہونے کے خدشات ہیں اسی لئے وہ اپنے بچوں کو روانہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے اسکولوں کی کشادگی کے ساتھ جو طلبہ آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے حق میں ہیں انہیں آن لائن کلاسس کی سہولت کی فراہمی کی تاکید کی گئی تھی لیکن دونوں شہروں میں موجود اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جارہا تھا اور کئی سرکردہ اسکولو ں میں حاضری کا فیصد 85 سے 90 کے درمیان تک پہنچ چکا تھا لیکن گذشتہ دو ہفتوں کے دوران طلبہ کی حاضری میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور اولیائے طلبہ کا کہناہے کہ جب ٹیکہ اندازی کے مکمل عمل سے گذرنے والوں کو اس موذی مرض کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تو ایسی صورت میں بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ابھی ہندستان میں 18 سال سے کم عمر بچو ںکی ٹیکہ اندازی کا عمل شروع نہیں کیا گیا ہے۔سرکردہ اسکولوں کے انتظامیہ کی جانب سے بھی اب بچوں کو کلاسس میں لازمی شرکت کے لئے دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں آن لائن کلاسس سے استفادہ کرنے کا مشورہ دیا جا رہاہے اورکہا جارہا ہے کہ اگر ان کے والدین اور سرپرستوں کی جانب سے باضابطہ کلاسس میں شرکت کی اجازت فراہم نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صور ت میں وہ آن لائن کلاسس میں شرکت کریں۔م