اومی کرون کیسز میں اضافہ، ایک اور طوفان کا پھیلاؤ

   

لندن: کورونا وائرس کے اومی کرون ویریئنٹ کے یورپ، امریکہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں تیزی سے پھیلاؤ کے بعد مختلف ممالک نے وائرس کی ایک اور خطرناک لہر سے نمٹنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ نیوز کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے یورپی سربراہ ہانس کلوگ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ایک اور طوفان اٹھتا نظر آ رہا ہے۔انہوں نے یورپی ممالک کو کورونا وائرس کے کیسز میں ’خاطر خواہ اضافے‘ کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی اقسام میں سے جلد ہی اومی کرون سب سے نمایاں ویریئنٹ ہوگا جو مختلف ممالک کا نظامِ صحت مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔جرمنی، اسکاٹ لینڈ، ایئرلینڈ، نیدرلینڈز اور جنوبی کوریا کا شمار ان ممالک میں ہے جنہوں نے جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے یا پھر سماجی فاصلہ رکھنے کی احتیاطی تدابیر کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔علاوہ ازیں جاپان کے ایک فوجی اڈے میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 180 ہوگئی ہے۔تمام مریضوں کا تعلق ایک ہی کلسٹر سے ہے، یعنی ان سب کو وائرس لگنے کا ذریعہ ایک ہی ہے۔ جبکہ متحدہ عرب امارت میں 99 فیصد آبادی ویکسین شدہ ہے اور کئی افراد کو بوسٹر خوراکوں کی آفر دی جا چکی ہے۔