اسمبلی میں وزیر سیتکا کا اعلان، بی آر ایس دور حکومت کے 140 کروڑ بقایا جات کی اجرائی
حیدرآباد۔/18 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے واضح کیا کہ بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کیلئے غریب اور مستحق طلبہ کی مالی امداد سے متعلق اوورسیز اسکالر شپ اسکیم جاری رہے گی اور جاریہ ماہ کے اواخر تک بقایا جات جاری کردیئے جائیں گے۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر پنچایت راج ڈی انوسیا سیتکا نے بی آر ایس ارکان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس حکومت کے اوورسیز اسکالر شپ بقایا جات کو کانگریس حکومت ادا کررہی ہے۔ اوورسیز اسکالر شپ مسئلہ پر ایوان میں گرما گرم مباحث دیکھے گئے۔ بی آر ایس ارکان کے پی ویویکانند ، ایم راج شیکھر ریڈی اور انیل جادھو نے کہا کہ بیرونی ممالک میں مقیم تلنگانہ کے طلبہ اسکالر شپ کی عدم اجرائی کے سبب پریشان ہیں۔ تعلیم جاری رکھنے کیلئے انہیں اپنے طور پر رقم ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر پنچایت راج سیتکا نے بتایا کہ 2024-025 میں 1098 طلبہ کو 140 کروڑ 74 لاکھ روپئے اسکالرشپ جاری کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے تحت گذشتہ دس برسوں میں 8723 طلبہ کا انتخاب کیا گیا اور 1396.25 کروڑ جاری کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اوورسیز اسکالر شپ کے بقایا جات جاریہ ماہ کے اواخر تک جاری کردیئے جائیں گے۔ سیتکا نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت کے بقایا جات 242 کروڑ ہیں جن میں سے کانگریس حکومت نے 140کروڑ جاری کردیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کو بہر صورت جاری رکھا جائے گا اور اسے ختم کرنے سے متعلق افواہیں بے بنیاد ہیں۔ سیتکا نے کہا کہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت کے 1310 طلبہ کا اسکیم کے تحت انتخاب کیا جاتا ہے اور جاریہ سال موصولہ درخواستوں کی جانچ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت کے فیس ری ایمبرسمنٹ بقایا جات 4500 کروڑ ہیں۔ بی آر ایس کے رکن ویویکانند نے کہا کہ اوورسیز اسکالر شپ کی عدم اجرائی سے بیرونی ممالک میں طلبہ پریشان ہیں۔ ایم راج شیکھر ریڈی نے حکومت سے مانگ کی کہ بقایا جات کی رقم فوری جاری کی جائے۔ مجلس کے احمد بلعلہ نے منتخب طلبہ میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت کے طلبہ کی تعداد علحدہ طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔1