اُپل جنکشن کے پاس میٹرو ریل کے بالائی سطح سے فلائی اوور کی تعمیر

   

جی ایچ ایم سی سے 311 کروڑ روپئے کے مصارف سے دو فلائی اوورس تعمیر کرنے کا منصوبہ ، حکومت کی منظوری
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر حیدرآباد کے اپل جنکشن کو ٹریفک فری جنکشن میں تبدیل کرنے کے لیے خصوصی منصوبہ بندی تیار کیا ہے ۔ 311 کروڑ روپئے کے مصارف سے دو فلائی اوورس تعمیر کرنے کی تجویز تیار کی ہے ۔ نیشنل ہائی ویز اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے اپل جنکشن سے 6.5 کیلو میٹر طویل 6 لائن چوڑی ایلیوٹیڈ کوریڈور تعمیر کیا جارہا ہے ۔ یہ کاریڈور جنکشن سے 300 میٹر کے فاصلے پر رکتا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے تیار کردہ تجاویز کو حکومت نے حال ہی میں انتظامی منظوری دے دی ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بہت جلد کام شروع ہوجائے گا اور اندرون 2 سال مکمل ہوجائے گا ۔ اپل شہر حیدرآباد کا مصروف ترین علاقہ ہے جہاں ہمیشہ ٹریفک مسائل رہتے ہیں ۔ اب یہ جنکشن ٹریفک فری جنکشن میں تبدیل ہونے جارہا ہے ۔ جس سے عوام کو بہت بڑی راحت ہوگی ۔ اسی سلسلہ میں جی ایچ ایم سی نے اپل میں تعمیر کئے جانے والے بڑے فلائی اوور کی تعمیری ڈیزائن میں ترمیم کرنے کی ( این ایچ اے آئی ) سے اپیل کی ہے ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے دو فلائی اوورس تعمیر کئے جارہے ہیں جو میٹرو ریل سے تقریبا 20 فیٹ اونچائی پر یہ فلائی اوورس تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے پیدل راہروں کی سہولت کے لیے جنکشن پر ایک انڈر پاس تعمیر کیا جارہا ہے ۔ یہ اسکائی وے ایک دائرے میں اطراف و اکناف کی چار سڑکوں کو جوڑنے میں مددگار ثابت ہوگا ۔ یہ میٹرو لائن کی راہ کے زیریں حصہ میں تعمیر کیا جارہا ہے ۔ ایک اور فلائی اوور سکندرآباد تا ناگول لنک میٹرو ریل کی بلندی پر تعمیر کیا جائے گا ۔ دونوں طرف کے فلائی اوورس چوراہے پر سگنل فری ہوں گے ۔ ورنگل سے ناراپلی ۔ اپل ایلیوٹیڈ کاریڈار سے شہر میں داخل ہونے والے کرکٹ اسٹیڈیم سے سکندرآباد کی طرف آسانی سے روانہ ہوسکتے ہیں ۔ سکندرآباد سے ناگول جانے والے بھی بغیر کسی رکاوٹ کے آسانی سے سفر کرسکتے ہیں ۔۔ ن