انقرہ : صدر رجب طیب اردغان کی جانب سے پیر کو یہ اعلان کرنے کے بعد کہ ان کا ملک یوکرین کی پوری متحدہ سرزمین پر خودمختاری کی حمایت کرتا ہے ترک حکومت نے انکشاف کیا کہ اس نے روسی جنگی جہازوں کو آبنائے باسفورس اور دردنیل کو عبور کرنے سے روکنے کے فیصلے سے روس کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے۔پیر کی شام ترکی کے وزیر خارجہ مولودچاووش اوگلو نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا ملک ’’بحیرہ اسود کے بحری اور غیر دریا کے ممالک‘‘ کے جنگی جہازوں کو باسفورس اورآبنائے درد نیل عبور کرنے سے روکے گا۔
داؤد اوگلو نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے ملک نے بحیرہ اسود کے تمام دریا والے اور غیر دریا والے ممالک کو مطلع کیا ہے کہ وہ اپنے جنگی جہاز ان کی آبنائو سے گزرنے کے لیے نہ بھیجیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ مونٹریکس کنونشن کی دفعات کا پابند ہے جو اسے ان دونوں آبناؤں کے کراسنگ کو کنٹرول کرنے کا حق دیتا ہے۔