آذربائیجان جنگ بندی کرکے امن مذاکرات شروع کرے ،فرانسیسی صدر میکرون کا زور
یریوان: آرمینیا کے وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے ہفتہ کو ناگارنو۔کاراباخ علاقے میں آذربائیجان علاقے میں آذربائیجان کے تین طیاروں کو مارگرایا ہے ۔آرمینیائی وزارت دفاع کے ترجمان شوشن اسٹیفنین نے اپنے فیس بک پیج پر یہ اطلاع دی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ‘‘تقریبا 8:25بجے جنوبی علاقے میں دشمن کے ایک جہاز کو تباہ کردیا گیا۔ کچھ دیر بعد ناگورنو۔کاراباخ میں فوج کے اگلے مورچوں پر دو اور جہازوں کو تباہ کردیا گیا۔ترجمان کے مطابق کنٹرول لائن اورجنوبی علاقے میں مسلسل زبردست جنگ جاری ہے ۔ دشمن ملک کی فوج نے ان علاقوں میں زبردست فورس تعینات کررکھا ہے اور حملے کررہی ہے ، حالانکہ آرمینیائی فوج بھی دشمن کے حملوں کا معقول جواب دے رہی ہے اور اسے نقصان پہنچارہی ہے۔ آذربائیجان کے آرمینیائی کنٹرول والے علاقے میں گزشتہ اتوار سے جنگ جاری ہے ۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر 1994 ء کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے ۔ لڑائی میں دونوں فریقوں کی جانب سے جان ومال کے نقصان کی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔دوسری طرف فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے آذربائیجان کے ہم منصب الہام علیوف پر زور دیا ہے کہ وہ ناگورنو-کاراباخ کے متنازعہ علاقے میں جنگ روکیں اور دوبارہ امن مذاکرات کا آغاز کریں۔آذربائیجان کے صدر کے دفتر نے ہفتہ کے روز ایک بیان جاری کیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ میکرون نے جمعہ کے روز علیوف سے رابطہ کیا تھا اور آرمینیا ۔ آذربائیجان لائن آف کنٹرول پر جاری تنازعے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور اس پر روک لگانے اور امن مذاکرات شروع کرنے کی درخواست کی تھی۔ بیان میں علییوف نے کہا کہ آرمینیائی فوج نے آذربائیجان کے رہائشی علاقوں میں شدید فائرنگ کی ہے ، جس میں 19 شہری ہلاک ، 60 سے زیادہ زخمی اور سیکڑوں کی تعداد میں مکانات کو نقصان پہنچا ہے ۔