ملبورن ۔ کئی اہم اور کلیدی کھلاڑیوں کی ٹیم میں عدم موجودگی کے باوجود آسٹریلیائی ٹیم کے کپتان ارون فنچ نے اپنی تمام تر توجہ ٹی 20 ورلڈ کپ پر مرکوز کرلی ہے، حالانکہ مارچ میں نیوزی لینڈ کے دورہ کے موقع پر جب انہوں نے آخری مرتبہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلی تھی، اس موقع پر ان کی آنکھ کا آپریشن ہوا تھا کیونکہ آئی پی ایل کے دوران ان کی بصارت متاثر ہوئی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے دورہ پر روانگی سے قبل ارون فنچ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بصارت متاثر ہونے کے بعد انہوں نے کنٹاک لنس کا استعمال کیا لیکن نتائج بہتر حاصل نہیں ہوئے کیونکہ بحیثیت بیٹسمین گیند پر قریبی نظر رکھنا اہم ہوتا ہے۔ بعد ازاں فیصلہ کیا گیا کہ گزشتہ برس آئی پی ایل میں متاثر ہونے والی بصارت کو حاصل کرنے کے لئے سرجری کی جائے گی جس کا انہیں اب فائدہ بھی حاصل ہو رہا ہے۔ ہندوستان کے خلاف منعقدہ سیریز کی تین اننگز میں انہوں نے 249 رنز بھی اسکور کئے تھے اور نیوزی لینڈ کے خلاف بھی ان کے مظاہرے بہتر رہے۔ اس خصوص میں اظہار خیال کرتے ہوئے آپریشن کے بعد بصارت میں بہتری آئی ہے اور اس وقت میری توجہ ورلڈ کپ کی تیاری پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت میں انڈور اسٹیڈیم کی سخت وکٹ پر مشق کررہا ہوں لیکن اصل امتحان تو رات کے وقت کھیلے جانے والے بین الاقوامی مقابلوں کے دوران ہوگا۔ نیوزی لینڈ کی دورہ سے قبل آسٹریلیائی ٹیم میں کئی اہم کھلاڑیوں کو شامل نہیں کیا گیا جس میں سابق کپتان اسٹیو اسمتھ کہنی کے زخم کی وجہ سے ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں پہلے سے طے شدہ منصوبہ کی وجہ سے ڈیویڈ وارنر اور نمبر ایک بولر پیٹ کمنس بھی اس دورہ کا حصہ نہیں ہیں لیکن ٹیم میں مارکس اسٹونس، گلین میکسویل، کین رچرڈسن اور جھائی رچرڈسن ٹیم کا حصہ ہیں۔ علاوہ ازیں ٹیم میں بین مائیک ڈرمٹ، آسٹن ٹرنر اور ڈین کرسٹین کو غیر معروف فاسٹ بولر ویس اگر کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ فنچ نے ٹیم میں چند کھلاڑیوں کو طلب کرنے اور چند اہم کھلاڑیوں کو آرام دینے سے متعلق قومی سلیکٹر ٹریوور ہانس کے بیان کا اعادہ کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے پیش نظر ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ چند نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا بین الاقوامی سطح پر ٹیم کے مستقل کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں امتحان لیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا کے لئے کھیلنا اور بہتر مظاہرہ کرنا سب سے اہم بات ہے اور میرے خیال میں اس دورہ پر منتخب ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کے لئے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ اپنے فام کو بین الاقوامی سطح پر جانچ لیں۔ ارون فنچ کے بموجب ویسٹ انڈیز کے وکٹوں کا برتاؤ بنگلہ دیش اور اس کے بعد ہندوستان یا متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ کی وکٹوں کے مماثل ہی ہوگا۔ لہذا سینٹ لوشیا کے حالات میں ہم اپنے موجودہ فام کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیائی ٹیم کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ اسے ایسے حالات میں کھیلنا کا موقع مل رہا ہے جو ورلڈ کے لئے بھی یکساں ہوسکتے ہیں۔ دورۂ ویسٹ انڈیز میں شامل نہ ہونے والے آسٹریلیائی کھلاڑیوں کا ٹی 20 ورلڈ کپ میں شامل نہ ہونے کا امکان ہے۔ آسٹریلیائیکپتان ارون فنچ نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کئی کرکٹرز کو زیرغور نہیں لایاجائے گا، ٹیم میں مظاہرے کرنے والے کھلاڑیوں کومنتخب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کھلاڑی ٹور پرجارہے ہیں آگے بھی پہلے موقع انہیں ہی ملے گا، موجودہ کھلاڑیوں نے اچھے مظاہرے کئے تو انہیں نظرانداز کرنا مشکل ہوگا۔ ارون فنچ نے کہا کہ ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش میں حالات اوروکٹیں ایک جیسی ہوں گی۔ واضح رہے کہ آسٹریلیائی ٹیم کے ڈیوڈ وارنر،گلین میکسویل، پیٹ کمنز، مارکوس اسٹوئنس ٹورز سے دستبردار ہوئے ہیں۔