آن لائن تعلیم کے فیصلہ پر خانگی اسکولس انتظامیہ بوجھ کا شکار

   

حکومت کے ایک کے بعد دوسرے فیصلہ سے خانگی انتظامیہ اور اساتذہ میں بے چینی

حیدرآباد: حکومت تلنگانہ کی جانب سے اسکولوں کو کھولے جانے کے متعلق متضاد اطلاعات نے خانگی اسکولوں کے انتظامیہ پر مزید بوجھ عائد کردیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے مرحلہ وار انداز میں باضابطہ اسکولوں کی کشادگی کے سلسلہ میں جاری کئے گئے احکامات کے فوری بعد خانگی اسکولوں کے انتظامیہ کی جانب سے اسکولوں میں صفائی کا عمل مکمل کروایا گیا اور حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط کے مطابق پاک و صاف رکھنے کے اقدامات کا آغاز کردیا گیا تھا لیکن اب یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے یکم جولائی سے مرحلہ وار انداز میں اسکولوں کی کشادگی کے فیصلہ کو مؤخر کردیا گیا ہے اور صرف آن لائن کلاسس کے انعقاد کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں تو ایسی صورت میں خانگی اسکول انتظامیہ میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ دونوں شہروں کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں موجود خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں نے حکومت کے فیصلہ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے فیصلوں میں استقلال نہ ہونے کے سبب نہ صرف طلبہ بلکہ اسکول انتظامیہ اور اساتذہ میں بھی بے چینی پائی جانے لگی ہے اورتعلیمی نظام بری طرح سے متاثر ہورہا ہے۔ خانگی تعلیمی اداروں کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں کے ذمہ دارو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت کو اسکولوں کی کشادگی یاباضابطہ کلاسس کے انعقاد کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات سے قبل ماہرین سے مشاورت کرنے کے بعد ہی قطعی فیصلہ کرنا چاہئے اور بار بار فیصلوں میں لائی جانے والی تبدیلی سے حکومت کی ساکھ متاثر ہونے لگی ہے ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے بتایا کہ ماہرین سے کی گئی مشاورت کی تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کردی گئی تھی جس میں محکمہ کے عہدیداروں نے ماہرین کی رائے کے مطابق اسکولوں میں باضابطہ تعلیم کے آغاز کی مخالفت کی تھی اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے سبب اسکولوں کی کشادگی کے اقدامات کئے جا رہے تھے اور اس سلسلہ میں احکامات کی اجرائی عمل میں لائی گئی تاہم احکامات کی اجرائی کے بعد والدین ‘ سرپرستوں اور اساتذہ کے موقف کے سامنے کے آنے کے بعد حکومت کی جانب سے آن لائن کلاسس کو ہی جاری رکھنے کا فیصلہ کئے جانے کی اطلاع موصول ہوئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس سلسلہ میں جلد ہی احکامات کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی۔