مستقبل میں اپنے آپ کو تیار رکھنے مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کی تلقین
حیدرآباد، 3 اپریل ۔(راست) مولانا حافظ ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی القادری امام و خطیب شاہی مسجد باغ عام نے کہا ہے کہ اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو اس کے اثرات بہت دنوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد مشرق وسطی میں برسر روزگار ہے۔ جن سے ان کا پورا گھر چلتا ہے۔ لیکن حالیہ جنگ کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی ملازمت پر اثر پڑا ہے۔ ہم جنگ میں کون اچھا اور کون برا کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ جنگ تو بربادی ہے۔ مستقبل میں اپنے آپ کو تیار رکھنے کے لیے ان چار باتوں کا بہت خیال رکھنا ضروری ہے۔پہلا ہمیں اپنی ترجیحات کو طئے کرنا ضروری ہے۔ ہمیں اپنی دعوتوں کے بچت کو اپنے گھر کے بچوں کی تعلیم کے لیے منتقل کرنا چاہیے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل بہتر ہوسکے۔ حالات بدلنے والے ہیں۔ آنے والے دور میں تعلیم یافتہ لوگوں کی قدر ہوگی۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہوٹلنگ کو چھوڑ کر صحت کی طرف آئیے۔ ہم جو بچت ہوٹلنگ میں خرچ کرتے ہیں، اسے اپنے بچوں کے اسپورٹس کے لیے خرچ کریں۔ ان کی فٹنس پر توجہ دیں۔ تیسری بات اختلافات کو ختم کریں۔ ہر سطح پر محبتوں کو بانٹیے اور اختلاف کو ختم کریں۔ چوتھی اہم یہ ہے کہ ہر چیز میں اسراف ختم کیجئے۔ اپنے آپ میں قناعت پیدا کیجئے اور بچت کرنے کی عادت ڈالیے۔ مولانا احسن الحمومی نے کہا ہے کہ اللہ نے انسانوں سے چار وعدے کیے ہیں۔ اللہ کے یہ وعدے انسانوں کی زندگی کو بڑی آسان کردیتے ہیں۔ اللہ نے یہ واضح وعدے عام انسانوں سے کیے ہیں۔ اللہ نے چار چیزوں کے ساتھ چار وعدے کیے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ’اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘‘ اللہ‘ بندوں سے راست وعدہ کرتا ہے کہ لوگوں مجھ سے مانگوں، میں تمہیں عطا کروں گا۔ اس روئے زمین پر اللہ کو یاد کرنے والی آواز بہت پسند ہے۔ آج کے دور میں ہم اپنی نجی زندگی، اجتماعی زندگی اور ہر لمحہ رسول اللہؐ کو یاد رکھیں اور انھیں بھول نہ جائیں۔ سرکار دو عالم ؐ کو یاد رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم آپؐ کی خوشی و ناراضگی کا خیال رکھیں۔ اگر ہم اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہوں تو اللہ کے محبوب رسول حضرت محمدؓ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا۔ اگر ہم رسول اللہؐ اور آپؐ کی تعلیمات کو بھول جاتے ہیں تو اللہ کو کوئی مطلب نہیں ہے کہ وہ عذاب سے محفوظ رکھے۔ جس گھر میں رسو ل اللہؐ کی تعلیمات کا خیال رکھا جاتا ہے، وہ گھر اللہ کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔ استغفار کو بھی اللہ سے عذاب سے محفوظ رہنا کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ ہمیں استغفار کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔