اپوزیشن اتحاد کے خوف سے لوک سبھا کے عاجلانہ انتخابات پر غور

,

   

وزیراعظم نریندر مودی کی سرگرم مشاورت، 5 ریاستوں کے ساتھ چناؤ کی تجویز، عوامی ناراضگی میں اضافہ پر تشویش
حیدرآباد ۔3۔ جولائی (سیاست نیوز) قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی سرگرمیوں میں تیزی میں بی جے پی کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آئندہ لوک سبھا انتخابات کی حکمت عملی کے سلسلہ میں پارٹی قائدین کے ساتھ ہنگامی اجلاسوں کا آغاز کردیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی قومی سطح پر بی جے پی کے گراف میں تیزی سے کمی پر تشویش میں مبتلا ہے اور چار اہم ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے ساتھ لوک سبھا انتخابات کے انعقاد پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے ۔ لاء کمیشن اور نیتی آیوگ نے الیکشن کے اخراجات میں کمی کے لئے لوک سبھا اور اسمبلیوں کے یکساں انتخابات کی سفارش کی ہے۔ قومی سیاسی پارٹیوں میں اگرچہ اس مسئلہ پر اختلاف ہے لیکن بی جے پی بڑھتی عوامی ناراضگی کے پیش نظر عاجلانہ انتخابات کے حق میں دکھائی دے رہی ہے۔ راجستھان ، تلنگانہ ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات جاریہ سال ڈسمبر تک مکمل کرلئے جائیں گے جبکہ لوک سبھا انتخابات مئی 2024 ء میں مقرر ہیں۔ ایسے میں بی جے پی چار ریاستوں کے ساتھ لوک سبھا کے انتخابات کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ اپوزیشن کو کامیابی سے روکا جاسکے ۔ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس برسر اقتدار ہے جبکہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی اور تلنگانہ میں بی آر ایس کی حکومت ہے ۔ بی جے پی قیادت چاہتی ہے کہ چھتیس اور راجستھان میں دوبارہ اقتدار حاصل کیا جائے۔ قومی سطح پر وزیراعظم نریندر مودی کے امیج میں کمی واقع ہوئی ہے جس کا اظہار آر ایس ایس نے کیا ہے۔ آر ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق ہندوتوا ایجنڈہ اور وزیراعظم نریندر مودی لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ اپوزیشن اتحاد کی صورت میں بی جے پی کو ملک بھر میں سخت مقابلہ درپیش ہوسکتا ہے کیونکہ گزشتہ دو انتخابات میں اپوزیشن ووٹ کی تقسیم کے نتیجہ میں بی جے پی کو فائدہ ہوا تھا۔ اپوزیشن اتحاد کے قطعیت پانے سے قبل ہی بی جے پی لوک سبھا انتخابات کا سامنا کرنا چاہتی ہے تاکہ عوامی ناراضگی میں مزید اضافہ سے قبل تیسری مرتبہ کامیابی کی مساعی کی جائے۔ اسمبلی انتخابات کے ساتھ لوک سبھا انتخابات کے انعقاد کے لئے اخراجات میں کمی کا بہانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ لوک سبھا کے وسط مدتی انتخابات کی صورت میں بی جے پی کو یقین ہے کہ عوامی ناراضگی کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم نے اسمبلی کے ساتھ لوک سبھا انتخابات کے سلسلہ میں کابینی اجلاس میں مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی دراصل کانگریس زیر قیادت اپوزیشن اتحاد سے خوفزدہ ہے۔ توقع ہے کہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے بارے میں عنقریب فیصلہ کیا جائے گا۔ تلنگانہ اور راجستھان اسمبلیوں کی میعاد 16 جنوری اور 14 جنوری کو ختم ہورہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں بھی انتخابات کی تیاری کر رہی ہے۔آندھراپردیش ، اروناچل پردیش اور اڈیشہ اسمبلیوں کی میعاد آئندہ سال جون میں ختم ہوگی۔ بی جے پی کو آسام ، گوا ، گجرات ، ہریانہ ، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا ، اروناچل پردیش ، منی پور ، تریپورہ ، اترپردیش ، میگھالیہ ، ناگا لینڈ ، اترا کھنڈ اور سکم میں اقتدار حاصل ہے ۔ حال ہی میں کرناٹک میں بی جے پی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس پارٹی کرناٹک کے علاوہ راجستھان ، ہماچل پردیش اور چھتیس گڑھ میں برسر اقتدار ہے جبکہ جھارکھنڈ اور بہار میں حلیف جماعتوں کی حکومت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے قومی صدر جے پی نڈا اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے اسمبلی اور لوک سبھا کے یکساں انتخابات کے بارے میں رائے طلب کی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک بھر سے پارٹی کے موقف کے بارے میں رپورٹ حاصل ہونے کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ر