ڈاکٹر کے نارائنا کا مشورہ، تلنگانہ میں انتخابی مفاہمت کا فیصلہ ابھی باقی
حیدرآباد ۔16 ۔ جون (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے جہدکار پروفیسر ہرگوپال کے خلاف ملک دشمنی کے الزامات کے تحت مقدمات درج کرنے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر ہرگوپال کے خلاف عائد کردہ الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران پروفیسر ہرگوپال نے سرگرم رول ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمنی کے مقدمہ کے بارے میں چیف منسٹر کے سی آر کو تبصرہ کرنا چاہئے ۔ چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے پروفیسر ہرگوپال کے خلاف مقدمات سے دستبرداری کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ انقلابی جہد کار ورا ورا راؤ کے خلاف ملک دشمنی کے مقدمات درج کرتے ہوئے انہیں جیل میں رکھا گیا ہے۔ قومی سطح پر بی جے پی کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ اگر بی جے پی کی فرقہ پرست پالیسی کو شکست دینے میں سنجیدگی کو تو کے سی آر ، جگن موہن ریڈی اور چندرا بابو نائیڈو کو بہار میں اپوزیشن قائدین کے اجلاس میں شرکت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ گورنر ٹی سوندرا راجن نے پڈوچیری میں لیفٹننٹ گورنر کی حیثیت سے خواتین کیلئے پب کے قیام کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو شکایت ہے کہ نئے سکریٹریٹ کی افتتاحی تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا جبکہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر صدر جمہوریہ کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اس بارے میں گورنر کیا جواب دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جگن موہن ریڈی حکومت کے خلاف بی جے پی قائدین کے بیانات محض ایک مجبوری ہے ۔ جگن موہن ریڈی مرکز میں مودی حکومت کے ساتھ ہیں۔ ڈاکٹر نارائنا نے وضاحت کی کہ آئندہ انتخابات میں کس پارٹی سے مفاہمت کی جائے اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ر