لندن: جو روٹ جب یارکشائر کی کپتانی کرتے تھے تب حامیوں نے انہیں ان کی کپتانی کی بنیاد پر ایک توہین آمیز نام دیا تھا۔ شاید انگلینڈ کے کرکٹ حکام کو سمجھنا چاہیے تھا کہ انگلینڈ کی کپتانی کے لئے ان کی اہلیت پر یہ سوالیہ نشان تھا۔ آسٹریلیا کے سابق کپتان ایان چیپل نے کرک انفو پر اپنے کالم میں لکھا، ‘‘روٹ نے انگلینڈ کی کپتانی سے اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہی ہاتھ دھویا ہے اور اس کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے رابرٹ کی کو منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا ہے ۔ روٹ کے خود اس اعلان سے کی انہیں کپتانی سے ہٹانے کے ایک متنازعہ فیصلہ کرنے سے بچ گئے ۔ تاہم اس پورے واقعہ سے اس بات کو نہیں جھٹلایا جاسکتا ہے کہ ای سی بی اپنی غلطیوں کو سدھارنے کے لئے کافی وقت لیتاہے ۔ چیپل نے لکھا، “روٹ کے دور میں انگلینڈ عالمی کرکٹ میں پیچھے جا رہا تھا اور رابرٹ کے لیے اس عمل کو روکناہی سب سے بڑاکام ہوگا۔ روٹ کا استعفیٰ اور ان کے جانشین پر جاری بحث اس بات کا ثبوت ہے کہ ای سی بی میں فیصلہ سازی کی طاقت کتنی کمزور ہے ۔ روٹ کی کپتانی کے ابتدائی دنوں میں ہی واضح تھا کہ ان میں ایک اچھے کپتان کی خوبیوں موجود نہیں ہیں۔ موجودہ ٹیم میں بہت کم ایسے کھلاڑی ہیں جو فطری کپتان لگتے ہیں اور یہ بھی ای سی بی کی غلطی ہے ۔ ہر پہلی الیون میں کچھ متبادل صاف نظرآنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ رابرٹ کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے کئی نام لیے جا رہے تھے ۔ اسٹورٹ براڈ ذہین اور علمی کرکٹر ہیں لیکن انہیں کپتانی نہیں دی جانی چاہیے ۔ وہ ایک عمردراز کھلاڑی ہیں اورگیندبازی و فیلڈ پلیسمنٹ کے لحاظ سے کافی پروٹیکٹیو ذہن کے کرکٹر ہیں۔جوس بٹلر ایک ٹسٹ وکٹ کیپر نہیں ہیں اور پہلی الیون میں جگہ نہیں بناپاتے۔ ٹسٹ کرکٹ ایک مشکل فارمیٹ ہے اور اس میں آپ کو پلیئنگ الیون میں اپنی جگہ کے لیے مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔آل راؤنڈر بین اسٹوکس ہی واحد اچھا آپشن نظر آرہے ہیں اور اگر اسٹوکس اس عہدے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں تو یہ انگلینڈ کے لیے پریشانی کا باعث ہوگا۔