نئی دہلی ،5 فروری (ایجنسیز) ہندوستان اورپاکستان کے میچ پر ہنوز سوالیہ نشان ہے۔ تادم تحریر کوئی نہیں جانتا کہ یہ میچ 15 فروری کو ہوگا یا نہیں۔ حکومت پاکستان پہلے ہی پی سی بی کو کہہ چکی ہے کہ وہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں ہندوستان کے خلاف نہیں کھیلیں گے۔ تاہم پی سی بی نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی اس نے آئی سی سی کو آگاہ کیا ہے۔ اس کے باوجود اگر یہ میچ نہیں ہوا تو اس سے نہ صرف پی سی بی کو نقصان پہنچے گا بلکہ آئی سی سی کی آمدنی پر بھی شدید اثر پڑے گا۔ تاہم آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی نے کہا ہے کہ اگر ہند۔ پاک میچ نہیں ہوا تو اس کا فائدہ آئی پی ایل کو ہوگا۔ایک انٹرویو میں للت مودی نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے میچ نہ ہونے سے آئی پی ایل کو کس طرح نمایاں فائدہ ہو سکتا ہے۔ مودی نے کہا اگر ہند۔ پاک میچ نہیں ہوتا ہے، تو اس سے دو طرفہ سیریز کے نشریاتی حقوق اور آئی سی سی کی آمدنی پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔ براڈکاسٹر زیادہ بولی لگانے سے ہچکچاتے ہیں اور اس صورت حال میں صرف آئی پی ایل کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا آئی پی ایل اب سال کا سب سے بڑا کرکٹ ٹورنمنٹ بن گیا ہے، جس نے عالمی سطح پر کھلاڑیوں اور شائقین کو خوش رکھا ہوا ہے، اور یہ ہر ایک کے لیے براڈکاسٹنگ کا موقع ہے، اس لیے براڈکاسٹر وہاں اپنی شرطیں لگائیں گے۔ پاکستان نے ہندوستان کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس سے اس کا کرکٹ مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے۔ آئی سی سی پاکستانی ٹیم کے خلاف اہم کارروائی کر سکتی ہے۔ پی ایس ایل تباہ ہو سکتا ہے۔ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی نے یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے انتخابات اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ پر توجہ مرکوزکرنے کے لیے کیا۔ کہا جا رہا ہے کہ نقوی جو پاکستان کے وزیر داخلہ بھی ہیں، بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں محمد یونس کی جیت کے بعد اپنا فیصلہ واپس لے سکتے ہیں۔