ای ایس ایل نرسمہن کی میعاد کا خاتمہ، تلنگانہ کی خوش قسمتی: بھٹی وکرامارکا

   

Ferty9 Clinic

دستور کو بالائے طاق رکھنے کا الزام، ریاستی وزراء کو چیف منسٹر کے خاندان کی ترقی کی فکر

حیدرآباد۔ 6 ستمبر (سیاست نیوز) کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بھٹی وکرامارکا نے کہا تلنگانہ کے عوام خوش قسمت ہیں کہ گورنر کے عہدے پر ای ایس ایل نرسمہن کی میعاد میں توسیع نہیں کی گئی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ گورنر کی حیثیت سے نرسمہن دستور کے تحفظ میں ناکام ہوچکے اور انہوں نے دستور کو بالائے طاق رکھ دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پارٹی سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے ارکان کو گورنر نے وزیر کی حیثیت سے حلف دلایا۔ اس طرح دستور کی خلاف ورزی کی گئی۔ انسداد انحراف قانون پر عمل آوری میں نرسمہن ناکام ثابت ہوئے۔ انتہائی تعلیم یافتہ اور قابل گورنر سے اس طرح کی امید نہیں تھی۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ انسداد انحراف قانون کے سلسلہ میں کے سی آر اور جگن موہن ریڈی کا رویہ مختلف رہا۔ جگن نے آندھراپردیش میں کسی بھی پارٹی سے انحراف کی حوصلہ افزائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ کے سی آر کانگریس ارکان کو لالچ دے کر خرید لیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کسانوں کو یوریا کی سربراہی میں حکومت پر ناکامی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ یوریا کو حاصل کرنے کے لیے کسان زائد قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کسانوں کو مالیاتی بحران میں مبتلا کررہی ہے۔ کسانوں کی بھلائی کا دعوی کرنے والے کے سی آر کی اصلیت بے نقاب ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اہم محکمہ جات کی کارکردگی ٹھپ ہوچکی ہے۔ زرعی شعبہ کے علاوہ صحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہے۔ ریاست بھر میں ایک طرف وبائی امراض عروج پر ہیں تو دوسری طرف وزیر صحت ایٹلا راجندر اپنی کرسی بچانے کے لیے چیف منسٹر کی چاپلوسی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر صحت کو چیف منسٹر سے زیادہ عوامی صحت کی فکر کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے چاہئے۔ وزیر صحت کو کم از کم انسانیت کی بنیاد پر عوام کے حق میں متحرک ہونا چاہئے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کے سی آر نے ریاستی وزراء کو بے اثر کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بنگارو تلنگانہ سے نہیں بلکہ کے سی آر خاندان کی ترقی کی فکر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی وزراء اپنے فرائض کی انجام دہی سے زیادہ کے سی آر کی تابعداری میں مصروف ہیں۔