پائیلٹس کی تنخواہوں میں تخفیف اور عملہ کی کمی کا بھی امکان
حیدرآباد۔20اکٹوبر(سیاست نیوز) ائیر انڈیا کی خانگی کمپنی کو حوالگی کا مسئلہ تعطل کا شکار ہوسکتا ہے لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے ان مسائل کے حل کے معاملہ میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کئے جانے کا امکان ہے۔ائیر انڈیا کی ٹاٹا سنس کو حوالگی کے فیصلہ کے بعد ائیر انڈیا کے ملازمین بالخصوص پائیلٹس کی جانب سے تنخواہوں کے امور پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ پائیلٹس کو موصول ہونے والے اطلاعات کے مطابق ٹاٹا سنس کی جانب سے آئندہ ماہ سے تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ائیر انڈیا کی جانب سے ملازمین کو دیئے گئے مکانات کے اندرون 6ماہ تخلیہ کے سلسلہ میں جاری کی گئی نوٹسوں کے بعداب کہا جار ہاہے کہ ٹاٹا سنس کو حاصل اختیار ات کے مطابق وہ ائیر انڈیا میں خدمات انجام دینے والے عملہ کی خدمات میں تخفیف یا ان کی تنخواہوں کو کم کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ذرائع کے مطابق ائیر انڈیا کے ملازمین کو الاٹ کئے گئے مکانات کے تخلیہ کی نوٹس کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ حکومت کی جانب سے اب اس معاملہ میں کوئی رعایت نہیں کی جائے گی ۔بتایاجاتا ہے کہ 14ہزار سے زائد ملازمین کو جنہیں مکانات الاٹ کئے گئے تھے انہیں تخلیہ کی نوٹس کے بعد قومی سطح پر ملازمین اور مزدوروں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی 10 ٹریڈ یونینوں کی جانب سے مشترکہ طور پر وزیر اعظم کے نام مکتوب روانہ کرتے ہوئے انہیں قومی اثاثہ جات کی فروخت کی پالیسی سے دستبرداری اختیار کرنے اور ائیر انڈیا کے ملازمین کو دی گئی تخلیہ کی نوٹس واپس لینے کے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے خانگیانے کی پالیسی کے سلسلہ میں کئے جانے والے فیصلہ کے منفی اثرات ملازمین پر دیکھے جانے لگے ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ آئی این ٹی یوسی‘ اے آئی ٹی یو سی ‘سی آئی ٹی یو‘ کے علاوہ دیگر ٹریڈ یونین قائدین کی جانب سے ملازمین کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا جا رہاہے جبکہ ائیر انڈیا میں خدمات انجام دینے والے پائیلٹس اپنی تنخواہوں میں ہونے والی کمی کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا فیصلہ کرسکتے ہیں کہ انہیں مستقبل میں کیا کرنا ہے کیونکہ انہیں جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں اس کے مطابق ان کی تنخواہوں میں 60 فیصد تک کی تخفیف کا فیصلہ کئے جانے کا خدشہ ہے لیکن وہ خدشات کی بنیاد پر کوئی یادداشت کی پیشکشی یا نمائندگی کے حق میں نہیں ہیں۔م