ایران اور امریکہ میں قیدیوں کے تبادلے پرمذاکرات جاری

   

قیدی امریکی جیل سے رہا ہوچکے ہیں لیکن تاحال وہ ایران میں ہی ہیں : جان کربی

واشنگٹن : امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں زیر حراست امریکی شہریوں کی رہائی اور واپسی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر جان کربی نے ایک آن لائن پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔اس بات کا اشارہ کرتے ہوئے کہ جیل سے رہائی پانے والے اور ایران میں نظر بند کیے گئے 5 امریکی شہریوں کے حوالے سے بات چیت فعال طریقے سے جاری ہے، کربی نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تفصیلات نہیں بتا سکتے۔کربی نے بتایا کہ قیدی امریکی جیل سے رہا ہوچکے ہیں لیکن وہ تا حال ایران میں ہی ہیں، کربی نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے اور ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ جنوبی کوریا میں ایران کے منجمد اثاثے 6 بلین ڈالر ہیں، کربی نے کہا کہ ایران اس رقم کو کس طرح استعمال کر سکتا ہے اس پر بعض پابندیاں ہوں گی۔جان کربی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی فعال مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ “ہم اس وقت جس چیز پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں وہ ان امریکیوں کی واپسی ہے، مذاکرات اسی کے بارے میں ہیں۔ یہ مذاکرات نازک، حسا س اور یقینی طور پر ابھی ختم نہیں ہوئے،”ایرانی نائب وزیر خارجہ اور چیف مذاکرات کار علی باقری نے قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثے کو آزاد اور امریکہ میں زیر حراست بہت سے ایرانی شہریوں کو رہا کر دیا جائے گا۔اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ دونوں ممالک باہمی طور پر قیدیوں کو رہا کریں گے، باقری نے کہا،”ایران نے امریکہ کو اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے ضروری ضمانتیں حاصل کر لی ہیں۔ امریکہ میں غیر قانونی طور پر نظر بند ایرانیوں کی بڑی تعداد کی رہائی بھی ان میں شامل ہے۔”