ایران اور حزب اللہ کے حملے، اسرائیل کا 1900 زخمیوں کا اعتراف

   

یروشلم ۔ 9 مارچ (ایجنسیز) اسرائیلی وزارتِ صحت نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک 1900 سے زائد زخمی افراد اسرائیل کے مختلف ہاسپٹلوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 157 زخمیوں کو ہاسپٹل لایا گیا۔ اب تک 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ 112 زخمی اب بھی ہاسپٹلوں میں زیر علاج ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی ریسکیو سروسز کے مطابق ایران کی جانب سے تل ابیب پر کیے گئے تازہ میزائل حملے میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل میں ایک درجن سے زائد مقامات پر میزائل یا اس کے ٹکڑے گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ حکام کے مطابق مختلف مقامات پر ہونے والے دھماکوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر ایرانی بیلسٹک میزائل میں کلسٹر بم وارہیڈ نصب تھا۔ دوسری جانب جنوبی لبنان میں لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سارجنٹ فرسٹ کلاس ماہر خطار شامل ہیں جبکہ دوسرے فوجی کا نام بعد میں جاری کیا جائے گا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی لبنان میں ایک فوجی چوکی کے قریب پیش آیا جو اسرائیلی سرحدی بستی منارا کے سامنے واقع ہے۔ ابتدائی فوجی تحقیقات کے مطابق علاقے میں کارروائی کے دوران ایک پیوما بکتر بند گاڑی کو نکالنے کے لیے فوج نے ایک اور پیوما گاڑی اور دو ڈی 9 بکتر بند بلڈوزر بھیجے تھے۔ فوج کے مطابق بلڈوزروں میں سے ایک کو گولہ لگا جو ممکنہ طور پر اینٹی ٹینک میزائل یا مارٹر تھا، جس کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی اور دونوں فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک افسر معمولی زخمی ہوا۔