دونوں شہروں میں تاریخی اور قدیم روابط۔ حضرت میر محمد مومن استرآبادی نے حیدرآباد کو دوسرا اصفہان قرار دیا تھا
حیدرآباد 24 مارچ : ( سیاست نیوز) : اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر جب سے حملے شروع کئے ہیں تب سے ایک شہر میں بموں کی بارش کردی ۔ جس سے شہر حیدرآباد کو شدید تکلیف محسوس ہورہی ہے ۔ یہ جان کر کہ وہاں کے تاریخی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے ۔ اس پر اور بھی اضطراب کا شکار ہوا ہوگا ۔ وہ شہر اصفہان ہے ۔ کوئی سوچ سکتا ہے کہ حیدرآباد تقریبا تین ہزار کلو میٹر دور واقع شہر پر بمباری سے اتنا کیوں لرز اٹھا ہے ۔ اس کی وجہ پرانا پل ہے جو ایک شاندار انداز میں تعمیر کیا گیا تھا جس میں 22 محراب والے دروازے ہیں ۔ چارمیناروں کے ساتھ شاندار چارمینار و بادشاہی عاشور خانہ اصفہان شہر کے براہ راست اثر و رسوخ کے تحت تصور کئے گئے تھے ۔ ان تخلیقات کے پیچھے میر محمد مومن استرآبادی تھے ۔ جنہوں نے کئی دہائیوں تک گولکنڈہ سلطنت کے پیشوا ( وزیراعظم ) کے طور پر خدمات انجام دیں ۔ ان کے الفاظ میں ’ حیدرآباد جدید اصفہان ہے ‘ ۔ اصفہان سے ان کی گہری محبت اس سادہ حقیقت سے پیدا ہوئی کہ یہ ان کا آبائی شہر تھا ۔ فی الحال اس شہر کو اسرائیل و امریکہ کے حملوں نے افراتفرای میں ڈال دیا ۔ وہ قوم جس نے فارسی ثقافت روایات اور تعمیراتی ورثے کو پوری طرح سے مجسم کیا ہے ۔ اپنے مرکز تک کانپ رہی ہے ۔ وہاں کے لوگ مسلسل خطرے میں جی رہے ہیں ۔ وہ یہ کبھی نہیں جانتے کہ کب اور کہاں سے میزائیل حملہ کرسکتے ہیں ۔ اس کے باوجود یہ جان کر کہ ملک کا تیسرا سب سے بڑا شہر اصفہان کو ایسا نقصان پہنچا ہے کہ اگرچہ حیدرآباد کے اس وقت اصفہان کے ساتھ تجارتی تعلقات بہت کم ہیں ۔ لیکن اس شہر کے اثر و رسوخ نے حیدرآباد کے آغاز میں ہی ایک اہم کردار ادا کیا تھا ۔ شہر کی تعمیر محمد قلی قطب شاہ کے دور میں شروع ہوئی ۔ اس وقت تک گولکنڈہ شہر تنہا کھڑا تھا ۔ اس وقت پرانے شہر کے نام سے جانا جانے والا علاقہ محض چند بکھرے ہوئے گاؤں پر مشتمل تھا ۔ چوتھے بادشاہ ابراہیم قلی قطب شاہ کے دور میں گولکنڈہ میں بہت زیادہ آبادی بنتی گئی ۔ اس سے دریائے موسیٰ کے پار ایک نیا شہر تعمیر کرنے کا خیال پیدا ہوا ۔ تاہم تعمیراتی کام فوری شروع نہیں کئے گئے ۔ یہ صرف ابراہیم کے مخصوص احکامات پر تھا کہ ایک پل کی تعمیر جو موسیٰ کے پار گزرنے کی سہولت کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھا ۔ بالآخر شروع کیا گیا تھا ۔ اس موڑ پر شہر میں ایک ممتاز شخصیت نے قدم رکھا میر محمد مومن استرآبادی وہ ایران میں صفوی سلطنت کے دارالحکومت اصفہان سے تعلق رکھنے والے مشہور عالم تھے ۔ اگر اس علاقے کے اندر استرآباد میں پیدا ہوئے لیکن انہوں نے صفوی خاندان کے ایک شہزادہ حیدر کے استاذ کے طور پر کام کیا ۔ ان کے پاس انجینئرنگ ، فن تعمیر ، طب اور روحانیت سمیت مختلف شعبوں میں مہارت تھی ۔ اپنے وطن میں بادشاہ کے انتقال کے بعد انہوں نے حیدرآباد کا رخ کیا ۔ چونکہ اس خطے کے قطب شاہی حکمران خود فارس نژاد تھے ۔ اس لیے اس وقت فارس سے متعدد ماہرین اور پیشہ ور پہلے ہی حیدرآباد ہجرت کررہے تھے ۔ ان کی آمد پر میر محمد مومن استرآبادی نے فوری حکمرانوں کو اپنی غیر معمولی مہارت سے متاثر کیا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب شہر کی تعمیر کی تیاریاں جاری تھیں ۔ پرانا پل پہلے ہی شکل اختیار کررہا تھا اس نے فوری اس منصوبے پر اپنی مہارت کا اطلاق کیا ۔ فارسی فن تعمیر کے عناصر کو شامل کر کے انہوں نے موجودہ ڈیزائن میں ترمیم کی ۔ اس پل کا تصور ایران میں بنائے گئے 13 ویں صدی کے پل کے ڈیزائن کی بنیاد پر کیا گیا تھا ۔ درحقیقت اصفہان کے پل جو فی الحال سیاحوں کیلئے نمایاں جگہ کے طور پر چمک رہے ہیں ۔ پرانا پل سے خاص مشابہت رکھتے ہیں ۔ چارمینار کیلئے بنیادی ڈیزائن حیدرآباد کا نشانی نشان ان کا تصور کیا گیا تھا ۔ بڑے میناروں کو ڈھانچے میں شامل کرنے کا فن تعمیر کا رواج فارسی روایت ہے ۔ اس علاقہ کی مساجد میں عام طور پر بلند و بالا مینار ہیں ۔ ان ڈھانچوں کے اوپر سے ایک بلند آواز سے مقامی لوگوں کو نماز کیلئے بلانے اذاں دیتا ہے ۔ چارمینار کو 1316 میں اصفہان میں تعمیر ہونے والی ’ مینار جو بن ‘ مسجد کے آرکیٹکچرل ماڈل کی بنیاد پر ڈیزائن کیا گیا تھا ۔ اسے اس طرح کے محرابوں اور میناروں کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تھا ۔ اس وقت تک وہ پہلے ہی پیشوا کے طور پر مقرر ہوچکے تھے ۔ 1590 میں قائم ہوئے شہر حیدرآباد کو اصفہان کی نقل بنانے کا فیصلہ کرکے مومن نے شہر کی ترقی پر اپنے نقوش چھوڑے ۔ وہ چالیس سال تک پیشوا کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ۔ وہ اپنی موت تک حیدرآباد میں ہی رہے ۔ انہیں میر مومن کا دائرہ کے اندر سپرد خاک کیا گیا جو کہ انہوں نے خود ڈیزائن کیا تھا ۔ ان کی قبر آج تک وہیں موجود ہے ۔ اگرچہ انہوں نے مقامی ہندوستانی روایات کی جگہ فارسی تعمیراتی طرزیں نافذ کیں ۔ لیکن شہر کی شہری منصوبہ بندی میں ان کا اہم کردار تاریخ میں نقش ہے ۔ اپنی موت سے کچھ پہلے اپنی ایک کتاب میں انہوں نے حیدرآباد کو ’ دوسرا اصفہان ‘ قرار دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد کی تاریخ میں اصفہان کو اتنی گہری اہمیت حاصل ہے ۔ درحقیقت کہا جاتا ہے کہ اگر اصفہان کو کبھی جنگ میں نقصان پہنچا تو یہ حیدرآباد کی روح پر لگے زخم کی طرح محسوس ہوگا ۔۔ ش