ایران جنگ کے سبب عراق کے مقدس شہر زائرین سے خالی

   

بغداد ۔ 4 مئی (ایجنسیز) عراق کے مقدس شہر نجف میں امام علی کا عظیم مزار خاموش کھڑا ہے، اس کے وسیع صحن اب مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پہلے آنے والے زائرین کی مختلف زبانوں میں سرگوشیوں سے نہیں گونجتے۔ سیاحوں کی عدم موجودگی نے دکانداروں اور ہوٹل مالکان کو بے روزگار کر دیا ہے اور ان کے دن بمشکل گزرتے ہیں۔ وہ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ زائرین کا ہجوم واپس آئے گا اور ان کے کاروبار دوبارہ زندہ ہو سکیں گے۔ زیورات کی ایک دکان کے مالک عبد الرحیم حرموس نے کہا کہ ایرانی ہمیں مصروف رکھتے تھے، چاہے کوئی سنار ہو، کپڑے کا تاجر یا پھر کوئی ٹیکسی ڈرائیور۔ اب ہر کوئی بے کار بیٹھا ہے۔ 71 سالہ حرموس نے مزید کہا کہ پہلے بازار میں قدم رکھنا بھی مشکل ہوتا تھا کیونکہ غیر ملکیوں کا ہجوم رہتا تھا … حتیٰ کہ سڑک کنارے سامان بیچنے والے بھی بڑی تعداد میں آنے والے زائرین کو متوجہ کرتے تھے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں شیعہ مسلمان عام طور پر نجف اور دوسرے مقدس شہر کربلا کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے بھڑکنے والی علاقائی جنگ نے اسلامی جمہوریہ ایران، لبنان، خلیجی ریاستوں، بھارت، افغانستان، پاکستان اور دیگر ممالک سے آنے والے زائرین کے معمول کی آمد روک دی ہے۔ حرموس، جو گزشتہ 38 سال سے نجف کے سنہری گنبد والے مزار کے قریب پرانے بازار میں تجارت کر رہے ہیں، نے کہا کہ مقدس شہروں کے لوگ اقتصادی طور پر مذہبی سیاحت کی مدد سے ہی زندہ رہتے ہیں۔ یہ مزار امام علی کی آخری آرام گاہ ہے، جو پیغمبر اسلام کے داماد، چوتھے خلیفہ اور شیعہ مسلمانوں کے مطابق پہلے شیعہ امام تھے۔ حرموس نے خبردار کیا کہ اگر یہ بحران جاری رہا تو معاشی تباہی ہو سکتی ہے۔ دکاندار کرایہ اور ٹیکس ادا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے، ٹیکسی ڈرائیور مسافروں کے بغیر رہ جائیں گے اور مزدوروں کو کام ملنا مشکل ہو جائے گا۔