ایران سے جنگ دو سے تین ہفتو ں میں ختم ہوسکتی ہے:ٹرمپ

,

   

واشنگٹن : یکم اپریل ( ایجنسیز ) مشرقِ وسطیٰ میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جاری تنازع آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ایران کو کسی نئے معاہدے کی بھی ضرورت نہیں۔ادھر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اصفہان اور فرخشہر میں دوا ساز کمپنیوں اور اسٹیل پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں امریکہکے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات پر کوئی اعتماد نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے پیغامات ضرور موصول ہوئے ہیں، تاہم اس وقت کوئی باضابطہ مذاکرات جاری نہیں۔اس کے علاوہ لبنان کی صورتحال بھی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں گھروں کو مسمار کیا جائے گا اور لاکھوں بے گھر لبنانی شہریوں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ٹرمپ کا امریکہ کو نیٹو سے نکالنے پر سنجیدگی سے غور
واشنگٹن : یکم اپریل ( یو این آئی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں۔امریکی صدر نے برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف سے گفتگو کرتے ہوئے دفاعی اتحاد کو کاغذی شیر قرار دے دیا۔ٹرمپ نے کہا کہ میں سنجیدگی سے اس پر غور کر رہا ہوں کہ امریکا نیٹو سے علیحدہ ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ میں کبھی بھی نیٹو سے متاثر نہیں ہوا، میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ یہ ایک کاغذی شیر ہے، پیوٹن بھی یہ جانتے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے مؤقف کو ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق حالیہ کشیدگی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان معاملات میں اتحادی ممالک کی جانب سے مطلوبہ حمایت نہیں ملی۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صورتِ حال نے عالمی توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کیا ہے۔