نیویارک : پانچ امریکیوں میں سے تین کو دس سال کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ امریکی حکام نے دیگر دو افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قیدیوں کا تبادلہ بائیڈن کے لیے سیاسی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ ایران میں برسوں سے زیر حراست 5 امریکی شہریوں نے پیر کے روز ایک خصوصی طیارہ سے قطری دارالحکومت دوحہ پہنچ کر طویل عرصے کے بعد آزاد فضاؤں میں سانس لیا۔ ان کی رہائی امریکی صدر جو بائیڈن کے لیے سیاسی طور پر ایک خطرناک معاہدہ کے نتیجے میں عمل آ سکی، جس کے تحت بائیڈن انتظامیہ نے ایران کے منجمد کیے گئے تقریباً چھ بلین ڈالر تہران حکومت کے حوالے کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔ اپنے عزیزوں کی ایرانی قید سے رہا کرانے پر ان سابقہ قیدیوں کے اہل خانہ نے صدر بائیڈن کا بے حد شکریہ ادا کیا۔ تاہم امریکی صدر کو ایران کے ساتھ مالیاتی لین دین کے سلسلے میں ان کے سیاسی مخالف ریپبلکن صدارتی حریفوں اور دیگر ناقدین کی جانب سے آڑے ہاتھوں بھی لیا گیا۔