واشنگٹن: ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی مخالف پابندیوں کو امریکہ ختم کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ امر وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائز نے یومیہ پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات اور آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے مذاکرات پر گفتگو میں اس کا عندیہ دیا۔ پرائز نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ مذاکرات مشکل رہیں گے اور ہم اس مشکل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم ویانا مذاکرات کے اختتام پر امریکی مفادات سے ہم آہنگ نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی طرف واپس لوٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس میں جوہری سمجھوتے سے متناقض پابندیوں کو ہٹانا بھی شامل ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے امریکہ کے ساتھ 2015ء کے جوہری معاہدے پر دوبارہ تب ہی بات چیت بحال ہو سکتی ہے، جب واشنگٹن ایران پر عائد کردہ تمام پابندیاں واپس اٹھا لے۔ اس سے قبل صدر حسن روحانی نے ویانا مذاکرات کو ایک نیا باب قرار دیا تھا۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی راہ ہموار کرنے والے معاہدے کی پابندی نہیں کریں گے۔
