ایران میں حکومت تبدیلی کے امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے ناکام : عراقچی

   

جب تک ضروری ہوگا میزائل حملے جاری رہیں گے، ایرانی وزیرخارجہ کی امریکی چینل ’پی بی ایس نیوز‘ سے بات چیت

تہران ۔ 10 مارچ (ایجنسیز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز کہا ہیکہ ایران میں نظام کی تبدیلی کیلئے امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔ عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک جب تک ضروری ہوا میزائل حملے جاری رکھنے کیلئے تیار ہے۔انہوں نے امریکی صدر کے اس بیان کے بعد کسی بھی قسم کے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا … جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوجائے گی۔عراقچی نے امریکی چینل پی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم ان کے خلاف میزائل حملے جاری رکھنے کیلئے تیار ہیں جب تک ضرورت پڑی اور جہاں کہیں ضرورت پڑی۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اب تہران کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکیوں کے ساتھ مذاکرات فی الحال ایجنڈے پر نہیں ہیں، انہوں نے یاد دلایا کہ ان کے ساتھ معاملات میں ایران کا تجربہ انتہائی تلخ رہا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کوئی بھی عوامی بیان دینا قبل از وقت ہے، ان کے خطابات اور تبصرے بعد میں جاری کیے جائیں گے۔عراقچی نے مزید کہا کہ خطے میں تیل کی نقل و حمل میں تعطل ایران کی وجہ سے نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں اور جارحیت کا نتیجہ ہے، جس نے پورے خطے کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ عراقچی نے واضح کیا کہ اس صورتحال نے آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے حوالے سے خوفزدہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے آبنائے کو بند نہیں کیا اور نہ ہم کسی کو اس میں جہاز رانی سے روک رہے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے اثرات صرف ایران پر نہیں بلکہ پوری عالمی برادری پر پڑ رہے ہیں۔دوسری جانب خارجہ تعلقات کی اسٹریٹجک کونسل کے سربراہ کمال خرازی نے کہا کہ جنگ چھڑنے کے بعد امریکہ کے ساتھ سفارتکاری کی امید بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اب سفارت کاری کی کوئی گنجائش نہیں دیکھ رہا کیونکہ امریکہ کے صدر نے دوسروں کو دھوکہ دیا ہے اور اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ طویل مدتی جنگ کیلئے تیار ہے۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہیکہ فوجی آپریشن مزید کئی ہفتوں تک جاری رہے گا۔
، جبکہ دوسری طرف تنازعہ کے پھیلاؤ کے خطرے کے بارے میں بین الاقوامی انتباہات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی افواج خاص طور پر پاسداران انقلاب نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس مقابلے کو جاری رکھیں گے، خواہ یہ 6 ماہ تک ہی کیوں نہ کھنچ جائے۔