رائے دہندوں سے مذہبی فریضہ سمجھ کر ووٹ ڈالنے کی اپیل
سپریم قائد آیت اللہ خامنہ ای نے ایک مسجد میں واقع پولنگ بوتھ پر جاکر ووٹ ڈ الا
تہران 21فروری (سیاست ڈاٹ کام) ایران میں 290 نشستوں کے لیے پارلیمانی انتخابات جمعہ کو شروع ہوئے جس کے پیش نظر پورے ملک میں پولنگ جاری ہے ۔ایران کی وزارت داخلہ کے انتخابی صدر دفتر کے مطابق اس انتخاب میں 7000 سے زائد امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ انتخابات کے آغاز میں تقریبا 15,500 لوگوں نے اپنے پرچہء نامزدگی داخل کئے تھے ۔ایران میں پارلیمانی انتخابات ہر چار سال بعد ہوتے ہیں۔ وہاں پارلیمنٹ کی مدت چار برس ہوتی ہے ۔بے تحاشہ مہنگائی، افراط زر اور انتہائی بے روز گاری سے دوچار ایران میں پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کل تک متوقع ہیں۔شورائے نگہبان کی جانب سے جو ایران کااہم فیصلہ ساز ادارہ ہے ، ہزاروں اصلاح اور اعتدال پسند وں کو چونکہ الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی اس لئے ووٹروں میں انتخابی دلچسپی بہت کم پائی جاتی ہے ۔ اس صورتحال کے ادراک کے پیش نظر ایرانی قیادت اور ان کے کنٹرول والے سرکاری میڈیا نے ووٹروں سے انتخابات کو مذہبی فریضہ سمجھ کر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے ۔کوئی نو (9) ہزار امیدواروں کو ناہل قرار دے دیئے جانے کے باوجود پارلیمنٹ کی 290 نشستوں کے لئے سات ہزار سے زائد امیدوار میدان میں ہیں ۔رائے دہندگان کی تعداد تقریباً چھ کروڑ بتائی جاتی ہے ۔ انتخابات کے لیے ملک بھر میں پچپن ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں اپنے دفتر کے قریب ایک مسجد میں واقع پولنگ بوتھ جا کر اپنا ووٹ ڈالا۔ الیکشن سے عوام کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ذاتی طور پر بھی ایرانیوں سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلنے کی اپیل کی ہے ۔ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی ایرانیوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔واضح رہے کہ اقتصادی پریشانیوں کی وجہ سے عام ایرانی موجودہ حکومت سے سخت ناراض ہیں۔ ابھی پچھلے سال کے اواخر میں ایرانی عوام نے حکومت کے خلاف کے خلاف ملک گیر مظاہرے کئے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق نومبر میں ہوئے ان مظاہروں کے دوران تقریباً تین سو ایرانی مارے گئے تھے۔ امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں نے ایران میں اقتصادی غیریقینی کے ماحول میں اور بھی شدت پیدا کر دی ہے ۔ امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کو امریکہ برادشت نہیں کرے گا۔ بڑی تعداد میں امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے ایرانی اقدام سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ایرانی حکمراں عوام کو اپنی پسند سے ملک کے رہنماؤں کے انتخاب کا حق نہیں دینا چاہتے ۔