ایران: نیوکلیئرمذاکرات کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ہوگی

   

تہران : ایران قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی شہمانی نے کہا ہے کہ امریکہ نیوکلیئر سمجھوتے سے متعلقہ وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے اور ہم امریکہ اور یورپ کے ساتھ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جاری نیوکلیئر مذاکرات سے ہٹ کر کسی بھی مذاکراتی مرحلے میں شامل نہیں ہوں گے۔شہمانی نے، جوہری سمجھوتے کو دوبارہ فعال کرنے کے لئے ایک طویل عرصے سے ویانا میں جاری جوہری مذاکرات کے بارے میں ٹویٹر سے پیغام جاری کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ” امریکہ اور یورپ نیوکلیئرسمجھوتے سے متعلقہ وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اقتصادی شعبے اور پابندیوں کے خاتمے کے معاملے میں نیوکلیئرسمجھوتہ، ایران کے لئے، اندر سے کھوکھلے محض ایک چھلکے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہم، سمجھوتے کی خلاف ورزی کرنے والے، امریکہ اور، سمجھوتے کی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنے والے، یورپ کے ساتھ نیوکلیئرمذاکرات سے ہٹ کر کسی بھی شکل میں کوئی مذاکرات نہیں کریں گے “۔واضح رہے کہ نیوکلیئرمذاکرات روس، چین، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کی شرکت سے ویانا میں جاری ہیں۔ مذاکرات کا مقصد نیوکلیئر سمجھوتے کو مکمل معنوں میں فعال کرنا اور امریکہ کی دوبارہ ست سمجھوتے کے ساتھ وابستگی کو یقینی بنانا ہے۔