ایران نے ہماری سرزمین استعمال نہ کرنےکا تیقن دیا ہے : عراق

   

بغداد: عراق کے وزیر خارجہ فؤاد حسین کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جنگ کے جغرافیہ میں واقع ہے، ایران پر اور اس کے خلاف حملے جاری رہنے کا مطلب اس بات کا امکان ہے کہ عراق کی سرزمین اور فضائی حدود جنگ کے ضمنی علاقوں میں آئے، لہذا ہم اس مسئلے سے خبردار کرتے ہیں۔عربی اخبار “الشرق الاوسط” کو دیے گئے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ عراقی حکومت کی ترجیح ہے کہ ملک کو کسی بھی حملے اور متوقع حالت جنگ سے دور رکھا جائے۔ان کا اشارہ اسرائیل اور ایران کی جانب تھا۔فؤاد حسین کے مطابق تہران ان کو باور کرا چکا ہے کہ وہ عراقی سرزمین سے اسرائیل پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔عراقی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں خواہ وہ وزیر اعظم، صدر یا پھر وزارت خارجہ ہو۔عراقی حکومت نے جمعرات کے روز ایک بیان میں باورکرایا تھا کہ اس کی سرزمین “حملے کرنے یا جوابی کارروائی کیلئے” ہر گز استعمال نہیں ہو گی۔ساتھ واضح کیا گیا کہ اسرائیل پر ایرانی حملوں میں عراق کی سرزمین استعمال ہونے سے متعلق رپورٹیں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں۔ ان کا مقصد عراق اور اس کی خود مختاری کے خلاف جارحیت کا جواز پیدا کرنا ہے۔