واشنگٹن: امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل کینیتھ میکنزی کا کہنا ہیکہ ایران نے اپنے زیر اثر ملیشیاؤں کو جدید ہتھیار فراہم کیے اور اب وہ تہران سے رجوع کے بغیر کارروائیوں میں مصروف ہیں۔میکنزی کے مطابق ایران محسن فخری زادہ کی ہلاکت پر شرمندگی کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “میں سمجھتا ہوں کہ ایران جواب میں اسرائیل پر ضرب لگائے گا”۔امریکی جنرل نے واضح کیا کہ ایران کی عادت ہیکہ وہ سست روی سے تصرف کرتا ہے اور جوابی کارروائی میں وقت لگاتا ہے۔میکنزی نے باور کرایا کہ عراق کی حکومت ان جماعتوں کیخلاف کام کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ یہ واشنگٹن اور بغداد کے درمیان اچھے کام کی جانب اشارہ ہے۔جنرل میکنزی کے مطابق ایران کا امریکہ کو عراق سے باہر کرنے میں ناکام رہناقاسم سلیمانی کے جا نشین کے کمزور ہونے اور تہران میں ایرانی قیادت کے بیچ تنازعہ کے موجود ہونے کا ثبوت ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے دو بمبار طیاروں نے گذشتہ روز مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی فضائوں میں پرواز کی۔ امریکی حکام کا کہنا ہیکہ یہ پروازیں خطے میں ایرانی مداخلت کیخلاف تہران کیلئے واضح پیغام ہیں کہ اگر ایران نے خطے میں کسی قسم کی تخریبی کارروائی کی کوشش کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔امریکی طیاروں نے کل جمعرات کے روز خلیجی پانیوں پر اڑانیں بھریں۔ یہ ایک ماہ کے دوران امریکی جنگی طیاروں کی دوسری بار پروازیں ہیں۔