تہران۔ 3 مارچ (ایجنسیز) ایران نے اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال کے بعد دشمن کو نشانہ بنانے جدید اور انتہائی طاقتور میزائل سسٹمز استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ان میں ہر میزائل کی اپنی خاصیت ہے اور بعض کا مقصد ایران ڈوم سمیت اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو بھی چیلنج کرنا ہے۔1. فَتَح-2 (Fatah-2)ہائپر سونک گلائیڈ وِہیکل، آواز کی رفتار سے 13–15 گنا زیادہ (تقریباً 15,000–18,000 کلومیٹر فی گھنٹہ)۔پرواز کے دوران اپنا رخ تبدیل کر سکتا ہے، اس لیے رادار کے لیے پکڑنا اور دفاع کرنا مشکل۔رینج: تقریباً 1,400 کلومیٹر، مڈل ایسٹ میں موجود امریکی فوجی اڈوں تک پہنچ سکتا ہے۔2. غدر-110 (Ghadr-110)شاہاب-3 کا بہتر ورڑن، بالسٹک اور ہائی اسپید۔رفتار: آواز کی رفتار سے 9 گنا (Mach 9)۔رینج: 1,600–2,000 کلومیٹر، اسرائیل کے کسی بھی علاقے تک پہنچ سکتا ہے۔30 منٹ میں فائر کے لیے تیار، موبائل لانچرز سے کہیں بھی داغا جا سکتا ہے۔3. خَیبَر میزائل (Khyber Missiles)ایران کا سب سے بھاری اور طاقتور میزائل، 2023 میں متعارف۔رینج: 2,000 کلومیٹر، 1,500 کلوگرام دھماکہ خیز مواد لے جا سکتا ہے۔لیکوئڈ فیول انجن کے ساتھ، زیر زمین گوداموں میں سالوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔پرواز میں رخ تبدیل کر سکتا ہے، رادار سے بچ سکتا ہے۔تازہ حملوں میں اسرائیل کے زیر زمین فوجی مراکز اور بنکرز کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل کی موجودہ دفاعی نظام، جیسے کہ ‘‘آئی-رین ڈوم’’، کم رینج کے میزائلوں کو تو روکتا ہے، لیکن ایران کے یہ جدید ہائپر سونک اور بھاری میزائل اس کے دفاع کے لیے چیلنج ہیں۔ ایران کے ان میزائل حملوں کے بعد مڈل ایسٹ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور عالمی سطح پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران کی قیادت تباہ ہو چکی ،ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے ، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے ۔ ان کے بقول ایران کا فضائی دفاعی نظام، فضائیہ، بحریہ اور قیادت تباہ ہو چکی ہے ۔ٹرمپ نے اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ”ان کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم ہو چکی ہے ۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں، مگر میں نے کہا کہ اب بہت دیر ہو گئی ہے ۔”اس سے قبل ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دینے کا عندیہ دیا تھا۔
ایرانی حکومتی نظام فعال ہے :صدرپزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران کا نظامِ حکومت پوری طرح فعال ہے اور مفلوج ہونے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے باوجود تمام سرکاری ادارے فعال ہیں اور ملک بھر میں ریاستی امور معمول کے مطابق جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام گورنرز سے براہِ راست رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ حالات غیر معمولی ہیں، لیکن انتظامی نظام متاثر نہیں ہوا۔ ملک بھر میں ضروری خدمات اور سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور حکومت حالات پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے ۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ”ان کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم ہو چکی ہے ۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں، مگر میں نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے ۔”