امریکی ملازمین پر سفری پابندی‘ روس اور جرمنی کا تحمل سے کام لینے پر زور، ایران، لبنان، اسرائیل کا سفر نہ کرنے فرانسیسی شہریوں کو مشورہ
واشنگٹن : امریکی صدر نے اسرائیل کیلئے مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے سے باز رہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملے کی ’سزا ملنی چاہیے۔‘ امریکی صدر جو بائیڈن نے توقع ظاہر کی ہیکہ ایران جلد ہی اسرائیل پر حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کے دفاع میں مدد کریں گے اور ایران کامیاب نہیں ہوگا۔ اسرائیل نے ایران یا اس کے حمایت یافتہ جنگجو گروہوں کے حملے کے پیش نظر اپنی تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے مابین موجودہ کشیدگی گزشتہ ہفتے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر مشتبہ اسرائیلی حملے کے بعد سے جاری ہے۔ اس حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرون ملک مقیم قدس فورس کے ایک سینئر کمانڈر اور چھ دیگر افسران مارے گئے تھے۔امریکہ نے ایران کے حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں اپنے ملازمین پر سفری پابندیاں عائد کردیں۔میڈیا کے مطابق امریکی سفارتخانے نے اپنے عملے کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ یروشلم، تل ابیب یا بیئر شیوا کے علاقوں سے باہر سفر نہ کریں۔روس اور جرمنی نے بھی فریقین کو مشورہ دیا کہ جنگ کا دائرہ ممکنہ وسیع ہونے کی صورت میں تحمل سے کام لیں۔دوسری جانب فرانس نے بھی شہریوں کو ایران، لبنان، اسرائیل، فلسطینی علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔وزارتِ خارجہ نے فرانسیسی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران، لبنان، اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا سفر نہ کریں۔ایکس پر ایک بیان میں فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران میں مقیم سفارت کاروں کے رشتہ دار فرانس واپس جائیں گے اور فرانسیسی سرکاری ملازمین پر اب ان مقامات پر کسی بھی مشن کے انعقاد پر پابندی ہے۔دوسری جانب وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ترکیہ، چینی اور سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، انٹونی بلنکن نے واضح کیا کہ امریکہ کو خطے میں کشیدگی کے بارے میں تشویش لاحق ہے، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے 11 روز قبل شام میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی سے خبردار کیا تھا، واقعے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے لیڈر سمیت 13 افراد شہید ہوئے تھے۔یاد رہے کہ 11 اپریل کو امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ایران اسرائیل پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 100 میزائیلوں کے ساتھ وہ حملے کی تیاری کررہا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ایران اسرائیل کو کھلے عام دھمکیاں دے رہا ہے۔میتھیو ملر نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم زمینی صورتحال سے متعلق باقاعدگی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس مخصوص جائزوں پر بات نہیں ہوگی جس کی وجہ سے ہم نے اپنے ملازمین اور ان کی فیملی کے سفر کو محدود کردیا ہے لیکن واضح طور پر ہم مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر اسرائیل میں خطرے کے ماحول پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر جوبائیڈن نے طلبا کیلئے مزید قرض منسوخ کر دیے
واشنگٹن :امریکی صدر جوبائیڈن نے طلبا کے لیے مزید 7.4 بلین ڈالر کے قرضے منسوخ کر دیے۔ امریکی میڈیا کے مطابق بائیڈن کا اقدام نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ ایک بیان میں امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ میری انتظامیہ کے پہلے دن سے میں نے یہ یقینی بنانے کے لیے لڑنے کا وعدہ کیا تھا کہ اعلیٰ تعلیم متوسط طبقہ کے لیے ایک ٹکٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں طلبا کے قرض کو منسوخ کرنے کے لیے کبھی بھی کام نہیں روکوں گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے طلبا کے لیے 1.2 بلین ڈالر کا قرضہ منسوخ کیا تھا۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ تقریباً 153000 افراد کے لیے 1.2 بلین ڈالر مالیت کے طلبا کے قرضے منسوخ کر رہی ہے۔
اسرائیل نے یکم اپریل کو ہونے والے اس فضائی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ لیکن ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل کو اس کارروائی کے لیے ”سزا ملنی چاہیے اور ملیگی۔‘‘ ان کے بقول سفارت خانے پر حملہ ایرانی سرزمین پر حملے کے مترادف ہے۔
بائیڈن نے کہا کہ وہ خفیہ معلومات کا انکشاف نہیں کریں گے لیکن انہیں توقع ہے کہ ایران کی طرف سے حملہ جلد ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر شہری حقوق سے متعلق ایک کانفرنس میں ورچوئل تقریر کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے جمعہ کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ نے اسرائیل اور خطے میں امریکی افواج کی حفاظت کے لیے جنگی جہازوں کو الرٹ کر دیا ہے اور یہ کہ اسے امید ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر براہ راست حملہ جمعے یا ہفتے کو کہا جا سکتا ہے۔
اخبار نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازعے سے بچنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اور امریکی دفاع اقدامات ممکنہ ایرانی حملے کے وقت اور مقام سے متعلق فیصلے سے واقف ایک شخص کے انتباہ کے بعد اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم ایرانی قیادت کی طرف سے بریفنگ دینے والے ایک شخص نے کہا کہ تہران میں اس حملے کے منصوبوں پر بات ہو رہی ہے تاہم ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
بھارت، فرانس، پولینڈ اور روس سمیت دیگر مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو خطے کا سفر کرنے سے خبردار کیا ہے۔ جرمنی نے بھی جمعے کو اپنے شہریوں سے ایران چھوڑنے کا مطالبہ کہا ہے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ مبینہ طور پر ایران کی طرف سے اسرائیل پر حملہ ایک حقیقی اور قابل عمل خطرہ ہے تاہم انہوں نے کسی ممکنہ وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ کربی نے کہا کہ امریکہ تہران کے خطرے کی روشنی میں خطے میں اپنی پوزیشن اور صورتحال کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہے۔