ایران کی ہتھیاروں کی ترسیل سے یمن میں جنگی طوالت :امریکہ

,

   

نیویارک : اقوام متحدہ میں امریکہ کی مندوب نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کو ہتھیاروں کی غیرقانی ترسیل سے یمن کے شہر مارب میں شدت پسند گروہ کی جارحانہ کارروائیاں مزید شدت اختیار کرتی ہیں۔ امریکی مندوب لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے سکیورٹی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ ’ہم امن کے قیام کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں تو ہمیں ان اقدامات کی نشاندہی کرتے ہوئے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے جو امن میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’پچھلے ماہ ایران سے آنے والے ایک بحری جہاز میں امریکہ نے ایک ہزار 400 رائفلیں اور دو لاکھ 26 ہزار اسلحے کی گولیاں برآمد کی تھیں۔‘امریکی مندوب نے بتایا کہ جہاز اس راستے پر رواں دواں تھا جو تاریخی طور پر حوثیوں کو ہتھیاروں کی غیر قانونی سمگلنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ’ایران حوثیوں کو ہتھیار سمگل کر کے اقوام متحدہ کی ہتھیاروں کی ترسیل پر پابندی کے قواعد کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور یہ ایک اور مثال ہے کہ ایران کی عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیاں یمن میں جنگ کو طول دے رہی ہیں۔‘امریکی مندوب لڈا تھامس نے یہ بیان ایسے موقع پر دیا ہے جب سکیورٹی کونسل کیارکان نے حوثیوں کی جارحانہ کارروائیوں کی مذمت کی تھی۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف اموات ہوئیں اور بڑی تعداد میں شہری بے گھر ہوئے بلکہ سعودی عرب کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔سکیورٹی کونسل کے ارکان نے حوثی ملیشیا کے قزاقی کے اقدامات کی بھی مذمت کی جو بحری سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ کے یمن کے لیے نمائندہ خصوصی ہانس گرنڈبرگ نے سکیورٹی کونسل کو بریفنگ میں کہا کہ ’جنگ کے میدان میں کوئی بھی طویل مدتی حل نہیں نکالا جا سکتا اور اگر تمام فریقین ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو بھی انہیں بات چیت کرنی چاہیے۔‘انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں یمن میں حالیہ عسکری جارحیت بدترین شکل اختیار کر گئی ہے جس سے شہریوں کی زندگیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔امریکی نمائندہ خصوصی ہانس گرنڈبرگ نے کہا کہ مارب میں حملے جاری رکھنے کے حوالے سے حوثی پر عزم ہیں اور سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے تنازعے سے جڑے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے تحت اپنی ذمہ داری نبھائیں جس میں شہریوں اور انفراسٹرکچر کا تحفظ شامل ہے۔اقوام متحدہ کے نائب ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر نے سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ گزشتہ ماہ الجوف، مارب اور شبوہ میں شدید جھڑپوں سے 15 ہزار افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے، جبکہ 358 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔