ایران کی یونیورسٹیز اور اردو یونیورسٹی کے درمیان باہمی اشتراک ضروری

   

ایرانی سفیر ڈاکٹر علی چگنی کی اردو یونیورسٹی میں آمد، فارسی کے فروغ کیلئے ہندوستانی یونیورسٹیز کی ستائش
حیدرآباد۔/7 ستمبر، ( سیاست نیوز) ہندوستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر علی چگنی نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا دورہ کرتے ہوئے ایران کی یونیورسٹیز کے ساتھ اردو یونیورسٹی کے تعلیمی تبادلے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن اور رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد نے ایرانی سفیر کو یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کی تفصیلات پیش کی۔ تقریباً دو گھنٹوں تک مختلف اسکولس کے ڈینس اور مراکز کے ڈائرکٹرس کے ساتھ ایرانی سفارتکار نے تعلیمی اور تحقیقی میدان میں باہمی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔ پروفیسر سید عین الحسن نے فارسی میں مخاطب کرتے ہوئے ایرانی سفارتکار کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ ایران کی ایسی یونیورسٹیز کی نشاندہی کی جائے گی جن کے ساتھ اردو یونیورسٹی اساتذہ، طلبہ اور ریسرچ اسکالرس کا باہمی تبادلہ کرسکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اردو یونیورسٹی میں مختلف ریاستوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور اساتذہ موجود ہیں۔ ڈاکٹر چگنی نے ہند۔ ایران باہمی تعلقات کے فروغ میں اردو یونیورسٹی کے رول کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایرانی عوام تکثیری سماج اور مختلف طبقات کے درمیان پُرامن بقائے باہم کے حوالے سے ہندوستان کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے علم سے متعلق حدیث مبارکہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ علم فراہم کرنا گویا نور فراہم کرنے کے مماثل ہے۔ علم نافع کی اہمیت حدیث مبارکہ میں اُجاگر کی گئی ہے۔ ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری ڈائرکٹر نور مائیکرو فلم انٹر نیشنل سنٹر نئی دہلی، ڈاکٹر علی اکبر نیرومند ریجنل ڈائرکٹر برائے جنوبی ریاستیں نور مائیکرو فلم انٹر نیشنل سنٹر اور ڈاکٹر عبدالمالکی ایرانی وفد میں شامل تھے۔ ڈاکٹر چگتی نے کہا کہ ہندوستان اور ایران کے تعلقات تاریخی نوعیت کے حامل ہیں۔ فارسی ہندوستان کی کلاسیکی زبان ہے اور ایران کے بعد ہندوستان وہ ملک ہے جہاں کئی یونیورسٹیز میں فارسی کی سب سے زیادہ نشستیں ہیں۔ ایران میں حیدرآباد کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور ایران سے آنے والے افراد کو اس لئے خوشی ہوتی ہے کیونکہ یہاں اپنائیت ملتی ہے۔ پروفیسر شاہد نوخیز صدر شعبہ فارسی نے مہمانوں کو اپنی فارسی کتاب پیش کی۔ر