واشنگٹن۔11 جنوری (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران میں جاری مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسی صورتِ حال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کئی برسوں سے حکومتی ظلم کا شکار رہے ہیں اور اب ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکہ مداخلت کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا۔ امریکی صدر کے مطابق ایران کے بعض شہروں میں مظاہرین نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور حکومتی رِٹ کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ایران میں احتجاج پر ٹرمپ کی کھلی تائید، امریکی مدد کا اشارہ
تہران۔ 11 جنوری (یواین آئی) ایران میں پھیلتے احتجاجی مظاہروں کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوام کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن آزادی کی جدوجہد میں ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے ، تاہم امریکی حکام کسی فوری فوجی اقدام کے امکان کو رد کر رہے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری احتجاجی تحریک کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایرانی عوام کو وہ مدد فراہم کرنے کے لیے آمادہ ہے جس سے وہ اس آزادی کی جانب بڑھ سکیں جس کا انہوں نے ماضی میں اس سطح پر تجربہ نہیں کیا۔ ٹرمپ نے یہ مؤقف اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں اختیار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران میں آزادی کی خواہش غیر معمولی سطح پر پہنچ چکی ہے اور امریکا مدد کے لیے تیار کھڑا ہے ۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے تمام اکتیس صوبوں میں دسمبر کے اواخر سے بدامنی اور احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے ابتدائی سطح پر اس بات پر مشاورت کی ہے کہ ضرورت پڑنے کی صورت میں ایران کے خلاف کن اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے تاکہ صدر کی دھمکیوں پر عمل درآمد ممکن ہو۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ان بات چیت میں ممکنہ اہداف کی نشاندہی بھی شامل رہی ہے ۔ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ زیرِ غور آپشنز میں ایرانی فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے ۔ تاہم ایک اور عہدیدار نے واضح کیا کہ آئندہ لائحۂ عمل پر تاحال کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوا اور نہ ہی کسی ممکنہ حملے کے لیے فوجی سازوسامان یا اہلکار منتقل کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشاورت معمول کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور فی الحال کسی فوری کارروائی کے اشارے موجود نہیں۔میدانی رپورٹس کے مطابق احتجاج کی بنیادی وجوہات میں بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اور بڑھتی مہنگائی شامل ہیں۔ مبصرین کے نزدیک یہ لہر 2022 کی “عورت، زندگی، آزادی” تحریک کے بعد سب سے بڑی عوامی مزاحمت سمجھی جا رہی ہے ۔
