ماسکو، 23 مارچ (آئی اے این ایس) روس اور ایران کے وزرائے خارجہ سرگئی لاوروف اور عباس عراقچی نے پیر کے روز خلیج فارس کی تازہ ترین صورتِ حال پر ٹیلی فون پرگفتگو کی، جس میں ماسکو نے فوری طور پر جنگی کارروائیاں بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں تفصیل دی گئی کہ لاوروف اور عراقچی نے خطے کی سیکیورٹی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا، جو امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شدید بگڑ گئی ہے۔ اس میں کہا گیا کہ لاوروف نے ایران کے جوہری ڈھانچے پر امریکی۔اسرائیلی حملوں، جن میں بوشہر جوہری توانائی پلانٹ بھی شامل ہے، کو قطعی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔ ان حملوں سے روسی اہلکاروں کی حفاظت کے لیے ناقابلِ قبول خطرات پیدا ہوتے ہیں اور خطے کے تمام ممالک کے لیے، بلا استثنا، تباہ کن ماحولیاتی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔بیان میں کہا گیا دونوں فریقوں نے واشنگٹن اور تل ابیب کی طرف سے اشتعال دلائے گئے اس خطرناک تنازعہ کے بحیرہ کیسپین کے خطے تک پھیلنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ روسی فریق نے فوری طور پر جنگ بندی اور ایک ایسے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا جو تمام متعلقہ فریقوں، بالخصوص ایران، کے جائز مفادات کو مدنظر رکھے۔ روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسی مؤقف پر قائم رہے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ عراقچی نے ایران کو فراہم کی جانے والی “بڑی سفارتی اور دیگر امداد”، بشمول انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی مدد، پر روسی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ ہفتہ کے روز ماسکو نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا، امریکی۔اسرائیلی جوڑا ایرانی فوجی، شہری اور سب سے خطرناک طور پر جوہری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اس دوران شہری جانی نقصان یا ممکنہ ریڈیولوجیکل اور ماحولیاتی نتائج کی کوئی پروا نہیں کی جا رہی۔ اس کے باوجود کہ گزشتہ سال جون میں امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایرانی جوہری پروگرام کی مکمل تباہی کے دعوے کیے گئے تھے، 21 مارچ کی صبح ایران کے یورینیم افزودگی کے پلانٹ، جو آئی اے ای اے کی نگرانی میں ہے، پر دوبارہ حملہ کیا گیا۔