ایران کے حملوں سے تیل کی قیمتیں آسمان پر

   

دبئی ۔ 10 مارچ (ایجنسیز) مغربی ایشیا میں جاری جنگ نے عالمی تیل بازار کو شدید ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہونے سے دنیا بھر کے ممالک پریشان ہو گئے ہیں۔ کئی ممالک نے تیل کی فراہمی میں راشننگ شروع کر دی ہے جبکہ بعض ممالک نے ایندھن کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ دوسری جانب کئی حکومتوں نے جنگ روکنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ مسلسل کشیدگی سے عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ ان کے انتخاب کے فوراً بعد ایران نے تیل کے ذخائر اور نقل و حمل کے مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے حملے تیز کر دیے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں۔ ایک ہی دن میں خام تیل کی قیمت فی بیرل 30 ڈالر سے زیادہ بڑھ گئی اور ایک مرحلے پر یہ 119.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو جنگ کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً 65 فیصد زیادہ ہے۔ بعد میں قیمت گھٹ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، تاہم یہ گزشتہ تجارتی دن کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد زیادہ رہی۔کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی شدید گراوٹ دیکھی گئی۔ ادھر امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ابوظہبی کے صنعتی کمپلیکس پر ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی
دبئی،10 مارچ (یو این آئی) ابوظہبی کے صنعتی کمپلیکس پر ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی جسے بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ابوظہبی میڈیا آفس سے جاری بیان میں واقعے کی تصدیق کی گئی۔ ڈرون حملے میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اس کمپلیکس میں ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کی سہولیات موجود ہیں جو یومیہ 922000 بیرل تیل کو ریفائن کر سکتی ہیں اور امارات کے ڈاون اسٹریم آپریشنز کیلئے مرکزی مرکز کے طور پر کام کرتی ہیں جس میں اہم کیمیکل، کھاد اور گیس کی مصنوعات بھی شامل ہیں۔