واشنگٹن ۔ 30 جنوری (ایجنسیز) امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی معاہدہ کرنے کا متبادل موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام آپشنز میز پر ہیں اور ہم ان کیلئے تیار ہیں۔ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ امریکی وزارت دفاع صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے منظور کردہ کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کیلئے تیار ہو گی۔ امریکی سینٹ کام نے اس ہفتے مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن کی قیادت میں ایک بحری اسٹرائیک فورس کی تعیناتی کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ فورس ضرورت پڑنے پر ایران پر حملہ کرنے کیلئے تیار اور اس پر قادر بھی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران میں تشدد کے ذمہ دار رہنماؤں اور حکام کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور ان کے معاونین ایسے حملوں کا مطالعہ کر رہے ہیں جن کے دیرپا اثرات ہوں۔ ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ حملے ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ایران کے ایٹمی پروگراموں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ نئے مظاہروں کی حوصلہ افزائی کیلئے ایران پر بمباری پر غور کر رہے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے سازگار حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹرمپ نے ابھی تک ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔