تہران، 9 مارچ (یو این آئی) سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر بن گئے ۔ ایران کی 88 رکنی مجلسِ خبرگان نے ایک تاریخی فیصلے میں سید مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے ۔ یہ انتخاب ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایک شدید جنگ کی زد میں ہے اور سابق سپریم لیڈر کی 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں شہادت کو محض ایک ہفتہ گزرا ہے ۔ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے جدید علماء میں نمایاں شخصیت کے حامل ہیں۔۔ وہ ستمبر 1969کو ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے اور علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں، اگرچہ وہ عوامی سطح پر کم ہی نظر آتے ہیں، لیکن انہیں ایران کے اقتدار کے راہداریوں میں سب سے بااثر شخصیت سمجھا جاتا ہے ۔ انہوں نے 1987 میں تہران کے مدرسہ علوی سے فقہ اور اصول کی تعلیم مکمل کی، ان کے اساتذہ میں آیت اللہ ہاشمی شاھرودی شامل ہیں۔ 1999 میں قم کے حوزہ علمیہ میں اعلیٰ دینی تعلیم علامہ مصباح یزدی اور دیگر علماء سے حاصل کی۔ ایران عراق جنگ میں سترہ سال کی عمر میں حبیب بن مظاہر بریگیڈ میں رضا کار کے طور پر خدمات انجام دیں اور کئی اہم آپریشنز میں شرکت کی۔ ان کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ گہرے مراسم ہیں، جن کا آغاز 1987 میں ان کی شمولیت سے ہوا، وہ 1980 کی دہائی کی ایران عراق جنگ میں بھی شریک رہے ۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے 2005 میں محمود احمدی نژاد کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا، جس پر ان کے سیاسی مخالفین نے ان پر مداخلت کے الزامات بھی لگائے ۔ مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب عالمی سطح پر شدید ردِعمل کا باعث بنا، امریکی صدر ٹرمپ نے اس انتخاب کو ’’ناقابلِ قبول ‘‘قرار دیتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک “کم وزن” شخصیت کہا ہے ۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے گزشتہ ہفتے بیان دیا تھا کہ علی خامنہ ای کا جو بھی جانشین ہوگا، وہ اسرائیل کا اگلا ہدف ہوگا۔مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جاتا ہے اور ان کا اثر و رسوخ خاص طور پر ایران کی فوجی اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں نمایاں رہا ہے ۔