حیدرآباد ۔ 6 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : امریکہ ۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات تلگو ریاستوں کے پولٹری سیکٹر پر بھی پڑنے لگے ہیں ۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوگیا ہے ۔ جس کی وجہ سے خاص طور پر مشرقی وسطیٰ کے ممالک کو ہونے والی انڈوں کی برآمدات تقریبا مسدود ہوگئی ۔ برآمدات رکنے کے باعث مقامی بازاروں میں انڈوں کے ذخائر بڑی مقدار میں جمع ہوگئے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں انڈوں کی قیمتیں تیزی سے گر گئی ہیں اور پولٹری فارمس کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس بحران کے باعث پولٹری سیکٹر کو یومیہ تقریبا 5 کروڑ روپئے تک کا نقصان ہورہا ہے ۔ عام طور پر جب برآمدات معمول کے مطابق جاری رہتی ہیں تو انڈوں کی قیمت مستحکم رہتی ہے ۔ لیکن موجودہ صورتحال میں قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ نیشنل ایگ کوآرڈینیشن کمیٹی (این ای سی سی ) نے فی انڈہ کی قیمت 5 روپئے مقرر کی ہے ۔ جب کہ سرکاری سطح پر 4-30 روپئے قیمت بتائی جارہی ہے ۔ مگر زمینی سطح پر صورتحال اس سے مختلف ہے ۔ طلب میں کمی کے باعث مقامی بازاوں میں ایک انڈہ صرف 3-50 روپئے میں فروخت ہورہا ہے اور بعض علاقوں میں قیمت اس سے بھی کم ہوگئی ہے ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتوں پر وہ اپنی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں کرپا رہے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگی کشیدگی جلد ختم نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں برآمدات مزید ماثر ہوسکتی ہیں اور قیمتوں میں مزید کمی کا خدشہ ہے ۔۔ 2