ایرانی انٹلی جنس سربراہ ماجد خادمی اسرائیلی حملے میں شہید

,

   

آئی آر جی سی کی جانب سے توثیق ۔ حساس سکیوریٹی مشن کے دوران بنایا گیا نشانہ
تہران 7 اپریل(یجنسیز ) ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے انٹلی جنس سربراہ میجر جنرل ماجد خادمی کی شہادت نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے موت کی تصدیق کرکے اسے دشمن کی کارروائی قرار دیا ہے، جبکہ مختلف رپورٹس میں حملے کی نوعیت اور ذمہ دار فریق کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔آئی آر جی سی کے مطابق ماجد خادمی پیر کو ایک امریکی صہیونی دشمن کے دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوگئے۔ وہ ایک حساس سیکیورٹی مشن پر تعینات تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ میڈیا کے مطابق یہ حملہ ایران کے اندر ایک خفیہ مقام پر کیا گیا، جہاں اعلیٰ سطحی سیکیورٹی سرگرمیاں جاری تھیں۔ ذرائع اس کارروائی کو اسرائیلی حملہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر رپورٹس میں امریکہ اور اسرائیل کی ممکنہ مشترکہ کارروائی کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ، تاہم کسی فریق نے باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی۔ماجد خادمی ایران کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اسٹرکچر میں ایک کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ 2022 سے اہم ذمہ داریاں نبھا رہے تھے اور حالیہ برسوں میں انٹیلی جنس نظام کی قیادت کر رہے تھے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کئی برسوں سے براہ راست جنگ کی بجائے خفیہ کارروائیوں، سائبر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل بھی ایران کے سائنسدانوں اور اعلیٰ فوجی عہدیداروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن کا الزام اکثر اسرائیل پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ واقعہ اسی جاری خفیہ جنگ کا تسلسل ہو سکتا ہے، تاہم اس بار ہدف ایک اعلیٰ ترین سیکیورٹی عہدیدار ہونے کے باعث اس کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں ۔ H/K