ایرانی اور عرب نسل کے لوگ ہندوستانی؟

   

حیدرآباد۔24 ڈسمبر(سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے شہریت ترمیم قانون کے منظور کئے جانے کے بعد ملک بھر میں پھوٹ پڑے احتجاج کے دوران مسلمانوں جو بے چینی پائی جا رہی ہے ان میں مزید بے چینی کا شکار طبقات میں عرب اور ایرانی شامل ہیں جو کہ سینکڑوں برسوں سے اس ملک کا حصہ ہیں ان میں اب بے چینی پائی جانے لگی ہے۔ ہندستان میں شہر حیدرآباد ایک ایسی جگہ ہے جہاں بڑی تعداد میں عرب اور ایرانی آباد ہیں اور وہ ہندستان میں رہتے ہوئے بھی اپنی منفرد و متاثر کن تہذیب کے سبب اپنی علحدہ شناخت رکھتے ہیں وہ اس قانون سے الجھن کا شکار ہوتے جارہے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ممالک سے ہجرت کرتے ہوئے اس ملک کی شہریت اختیار کی ہے اور ہندستانی شہریت کے حصول کے بعد ان کی دو تا تین نسلیں گذرچکی ہیں اور اب انہیں اپنی شناخت پیش کرنے کے لئے کہا جا رہاہے تو وہ پریشان ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ اس قانون کے نفاذ کی صورت میں ان لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جن کے آباء و اجداد نے کسی اور ملک سے ہندستان پہنچ کر شہریت حاصل کی ہے اور اب ان کی نسلوں کے لئے یہ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ایرانی نژاد افراد جو کہ حیدرآباد میں بڑی تعداد میں رہتے ہیں ان کا کہناہے کہ وہ ہندستانی شہری ہیں لیکن وہ اس بات سے بھی انکار نہیں کرتے کہ ان کے آباء و اجداد نے ہندستان کو اپنے قیام کیلئے منتخب کیا ہے لیکن اب وہ اس صورتحال میں تشویش کا شکار ہیں کہ اس نئے قانون سے ان کا مستقبل کیا ہوگا۔اسی طرح عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی قبائل کے افراد نے ہندستان کو اپنے مل کی حیثیت سے قبول کیا اور ہندستانی شہری ہوگئے اور اب ان کی نسلیں اس ملک کی شہری ہیں لیکن اس قانون نے ان کو بھی تشویش میں مبتلاء کردیا ہے

اور کہا جار ہاہے کہ وہ بھی اپنے اجداد کے دستاویزات کے حصول اور ان کی جانب سے حاصل کی گئی ہندستانی شہریت کے دستاویزات کے متعلق فکرمند ہیں کیونکہ شہریت ترمیم قانون کے نکات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہوتی جا رہی ہے کہ جن لو گوں سے دوسرے ممالک سے ہندستان کو ہجرت کی ہے وہ سی اے اے اور این آر سی سے زیادہ متاثر ہوںگے۔ایرانی اور عرب نژاد شہریو ںکے علاوہ حیدرآباد و دیگر شہروں میں بسنے والے ایسے افراد جن کے آباء و اجداد کسی اور ملک سے ہندستان آئے ہیں اور ان کے پاس ہندستانی شہریت کے حصول کے سلسلہ میں کوئی باضابطہ دستاویزات موجود نہیں ہیں ان کو ان قوانین سے سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اسی لئے ان میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ عرب اور ایرانی نژاد شہری جو کہ اب بھی اپنے آبائی وطن سے شادی بیاہ اور دیگر رشتہ داریوں سے مربوط ہیںان کیلئے بھی مسائل کا سامنا ہوگا اور جن ہندستانی شہریوں کی شادی بیرونی ممالک کے شہریوں سے کی گئی ہے ان کی نسلوں پاس موجود شہریت کے متعلق مسائل ہوسکتے ہیں۔