تہران، 18 مارچ (یو این آئی) ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی اپنے صاحبزادے سمیت شہید ہوگئے جس کی باقاعدہ تصدیق کردی گئی ہے ۔ ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ علی لاریجانی امریکی اور صیہونی حملے میں اپنے بیٹے مرتضیٰ سمیت شہید ہوئے ۔ اس کے علاوہ علی لاریجانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی باپ بیٹے کی شہادت کا اعلان کردیا گیا، پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک بندہ خدا اپنے رب کے پاس شہید کے طور پر پہنچ گیا، شہادت پر تعزیت اور اللہ سے مرحوم کی مغفرت کی دعا ہے ۔ شہادت سے محض چند گھنٹے قبل علی لاریجانی نے اپنے آخری ٹوئٹ میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میں موت کو اللہ سے ملاقات اور خوشی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔ان کی شہادت کے بعد ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ ایک بندہِ خدا اپنے رب کے حضور شہید کے طور پر پہنچ گیا ہے ۔شہید علی لاریجانی اور ان کے صاحبزادے کی نمازِ جنازہ آج تہران میں ادا کی جارہی ہے، جس میں اعلیٰ حکام سمیت عوام کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔تہران کی فضا سوگوار ہے اور پوری قوم اس عظیم نقصان پر سراپا احتجاج ہے ۔ گزشتہ روز علی لاریجانی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام خط میں کہا تھا کہ مسلم دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس طرف ہیں؟ اور کہا کہ آپ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہیں یا ایران اور مزاحمت کاروں کے ساتھ ؟ جب ایران پر حملہ ہوا تو مسلم اکثریتی ممالک کی طرف سے وہ حمایت اور یکجہتی دیکھنے کو نہیں ملی جس کی توقع تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایران بڑے اور چھوٹے شیطان یعنی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے راستے پر قائم ہے لیکن کیا کچھ مسلم حکومتوں کا رویہ ہمارے خلاف ہے ۔ یہ کیسے مسلمان ہیں؟
علی لاریجانی کی شہادت ایران کیلئے گیم چینجر ہو سکتی ہے ؟
تہران، 18 مارچ (یو این آئی) ایران کے طاقتور سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی کی شہادت کی خبر نے مشرقِ وسطیٰ میں ہلچل مچا دی ہے ۔ لاریجانی وہ شخصیت تھے جو فوج (آئی آر جی سی)، مذہبی قیادت اور سیاسی اشرافیہ تینوں کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھتے تھے ، آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہ غیر رسمی طور پر نظام کے سب سے طاقتور فرد بن گئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ نظام کا دماغ سمجھے جاتے تھے ۔علی لاریجانی کو ایران کے طاقتور ترین پالیسی سازوں میں شمار کیا جاتا تھا، بطور سیکریٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل، وہ دفاعی حکمتِ عملی، ایٹمی پروگرام اور خارجہ تعلقات کی نگرانی کر رہے تھے ۔ انہیں ایک ایسی شخصیت سمجھا جاتا تھا جو فوج، مذہبی قیادت اور سیاسی حلقوں کے درمیان توازن قائم رکھتی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے بعد لاریجانی کا کردار مزید نمایاں ہوگیا تھا، جبکہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر کم دکھائی دے رہے تھے ۔ حال ہی میں لاریجانی کو تہران میں حکومتی ریلی میں عوام کے درمیان دیکھا گیا تھا، جو ایران کے مؤقف کا کھلا اظہار تھا۔ لاریجانی ایران کے نیوکلیئر پروگرام اور عالمی مذاکرات میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے ، انہوں نے 2015ء کے جوہری معاہدے کی حمایت کی تھی، جس سے بعد میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ الگ ہو گئے تھے ۔ علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔
، اندرونی سیاسی کشمکش بڑھ سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے ۔ ان کے جانے سے پاور ویکیوم پیدا ہو سکتا ہے ، مختلف دھڑوں میں کھینچا تانی بڑھ سکتی ہے ، جنگی فیصلے سست یا غیر مؤثر ہوسکتے ہیں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کمزور ہو سکتا ہے ۔