تہران ۔ 2 اپریل (ایجنسیز) جنوبی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات کے ساتھ ایران کی طرف سے بڑی تعداد میں میزائل داغے جانے کی خبریں بھی آ رہی ہیں، کیونکہ ایران سے اسرائیلی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ایرانی ٹیلی ویژن نے ذکر کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب میزائلوں کا ایک نیا دستہ روانہ کیا گیا ہے اور اسی دوران تل ابیب اور ملک کے وسطی حصوں کے کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن گونج اٹھے ہیں۔اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ میزائل گرنے سے بنی براک شہر میں ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور تل ابیب کے اندرونی علاقوں میں کلسٹر میزائل کا ملبہ گرنے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے تل ابیب میں میزائلوں کا ملبہ گرنے کی شکایات موصول ہونے کا اعلان کیا ہے جبکہ رپورٹوں میں وسطی اور شمالی اسرائیل کی جانب ایران اور حزب اللہ کے مشترکہ حملے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب کے اندر 11 مقامات پر کلسٹر میزائل کا ملبہ گرا ہے جس سے مالی نقصان ہوا ہے جن میں بنی براک میں پانی کا نیٹ ورک متاثر ہونا بھی شامل ہے۔رپورٹس کے مطابق ملبہ گرنے کے نتیجے میں بنی براک میں 5 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ گردش کرنے والی ویڈیوز میں بمباری کے نتیجے میں بعض عمارتوں میں ہونے والی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی میڈیا نے ایرانی میزائلوں کی آمد کے بعد یروشلم میں بھی دھماکے کی اطلاع دی ہے۔یہ میدانی تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب جنگ کے خاتمے کیلئے سیاسی کوششیں جاری ہیں اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے نئے سربراہ نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز بدھ کو اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایران کے نئے صدر، جو اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں بہت کم انتہا پسند اور کہیں زیادہ سمارٹ ہیں، انہوں نے ابھی ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے!۔تاہم امریکی صدر کی جانب سے اس سے قبل اس بات کی تصدیق کے باوجود کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے جا رہے ہیں، ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیکزاد نے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کی ہے۔
یاد رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے چند روز قبل تہران کو کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے 6 اپریل سنہ 2026ء تک کی مہلت دی تھی، لیکن انہوں نے منگل کے روز دوبارہ اشارہ دیا کہ وہ کسی معاہدے کے بغیر بھی جنگ ختم کر کے یہاں سے نکل سکتے ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کا مطلب لازمی طور پر حملوں کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔