ایران۔ اسرائیل جنگ پر مودی تنقید کا نشانہ

   

نئی دہلی ۔ 14 مارچ (ایجنسیز) ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر ملک کے اندر تنقید کی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ بعض سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں نے حکومت کے اقدامات اور خطہ کے معاملات میں مبینہ کردار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ میڈیا کے مطابق سیاستداں آنند بھدوریا نے ایک بیان میں مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ جب غزہ میں جنگ جاری تھی تو ہندوستان نے اسرائیل کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات کو فروغ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی کے فیصلوں کے بارے میں عوام کو وضاحت فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب خطہ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، حکومت کے اقدامات اور سفارتی فیصلوں پر سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو خطہ میں امن و استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جانا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ہندوستان کی پالیسیوں پر مختلف سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق عالمی اور علاقائی سیاست میں بڑے ممالک کے فیصلے اکثر اندرونِ ملک سیاسی مباحث کو بھی جنم دیتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ خطہ میں جاری تنازعات کے باعث عالمی سطح پر مختلف ممالک کی خارجہ حکمت عملیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور یہی صورتحال ہندوستان کے اندر بھی سیاسی بحث کا باعث بن رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ہندوستان میں مختلف سیاسی جماعتیں خارجہ پالیسی سے متعلق حکومتی اقدامات پر اپنے اپنے نقطہ نظر پیش کر رہی ہیں جس کے باعث اس معاملہ پر اندرون ملک بحث میں تیزی آ گئی ہے۔